مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 471 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 471

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول الشیخ محمد ابراہیم سالم بک کا بیان 449 الشیخ محمد ابراہیم سالم بک ( سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ مصر ) نے ایک بیان میں کہا:۔بلاشبہ ہماری طرف سے یہ جلد بازی ہوگی کہ ہم قادیانیوں پر کفر کا فتویٰ لگائیں اور یہ اس لئے کہ ہمیں ابھی تک ایسے وسائل میسر نہیں کہ ہم اس مذہب کے متعلق علم اور اس کے میلانات بذریعہ کتب معلوم کر سکیں۔اور جب تک ہمیں اس مذہب کے متعلق معلوم نہ ہو تو یہ جلد بازی اور جسارت ہوگی کہ ہم اس مذہب کے پیرو کاروں پر کفر کا فتویٰ لگا دیں۔وہ اس وقت تک مسلمان ہی ہیں جب تک کہ انکے کفر پر دلیل قائم نہیں ہو جاتی۔اس کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کہ کئی ایسے پہلو ہیں جو فرقہ قادیانی کے مسلمان ہونے کی تائید کرتے ہیں بلکہ ان کے (مسلمان ہونے کی تائید میں یہ پہلو بھی ہے کہ احمدی اسلام اور مسلمانوں کی تائید کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے بلکہ ہر موقعہ سے پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ تائید خواہ سرکاری تقریبات کے مواقع پر ہو یا ان کے علاوہ۔ان امور کی بناء پر یہ بات بڑی تکلیف دہ ہے کہ جناب ظفر اللہ خاں کی ذات پر کفر کا اتہام لگایا جائے ہم جانتے ہیں کہ وہ شخص اسلامی اخلاق سے آراستہ ہے اور اسلامی روایات اور سنت پر عامل ہے۔ظفر اللہ خاں مصر میں کئی مرتبہ آئے ہیں۔ہم نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرتے ہیں اور ان کے معاملات میں ان کی مدد کرتے ہیں۔اور آپ ہر ایسے معاملہ میں جس میں اسلام اور مسلمانوں کی شان بلند ہوتی ہو دلیر ہیں۔اس بناء پر اس شخص کے مسلمان ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔الشیخ علام نصار بک کا بیان مصر کے سابق مفتی الشیخ علام نصار بک نے اپنے بیان میں کہا:۔( البلاغ 26 جون 1952ء) نہ تو یہ جائز ہے اور نہ آسان کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے کسی فرقہ پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے اور نہ ایسے دلائل ہی پائے جاتے ہیں جو اس امر کو جائز قرار دیں کہ قادیانی جماعت پاکستان میں اسلام سے خارج ہے۔میں اس امر کو مناسب نہیں سمجھتا کہ ایک عظیم سیاسی آدمی