مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 20 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 20

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کی محبت میں فنا ہو گیا۔اے اُس زمین کے باسیو جس پر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدم پڑے! اللہ تم پر رحم کرے اور تم سے راضی ہو جائے اور تمہیں راضی برضا کر دے۔اے بندگانِ خدا! مجھے تم پر بہت حسن ظن ہے۔اور میری روح تم سے ملنے کے لئے پیاسی ہے۔میں تمہارے وطن اور تمہارے بابرکت وجودوں کو دیکھنے کے لئے تڑپ رہا ہوں تا کہ میں اس سرزمین کی زیارت کر سکوں جہاں حضرت خیر الوریٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدم پڑے، اور اس مٹی کو اپنی آنکھوں کے لئے سرمہ بنالوں۔اور میں مکہ اور اس کے صلحاء اور اس کے مقدس مقامات اور اس کے علماء کو دیکھ سکوں۔اور تا کہ میری آنکھیں وہاں کے اولیائے کرام سے مل کر اور وہاں کے عظیم مناظر کو دیکھ کر ٹھنڈی ہوں۔پس میری خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے اپنی بے پایاں عنایت سے آپ لوگوں کی سرزمین کی زیارت نصیب فرمائے اور آپ لوگوں کے دیدار سے مجھے خوش کر دے۔اے میرے بھائیو! مجھے تم سے اور تمہارے وطنوں سے بے پناہ محبت ہے۔مجھے تمہاری راہوں کی خاک اور تمہاری گلیوں کے پتھروں سے محبت ہے۔اور میں تمہیں کو دنیا کی ہر چیز پر 20 ترجیح دیتا ہوں۔اے عرب کے جگر گوشو! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو خاص طور پر بے پناہ برکات ، بے شمار خوبیوں اور عظیم فضلوں کا وارث بنایا ہے۔تمہارے ہاں خدا کا وہ گھر ہے جس کی وجہ سے اُم القُرئ کو برکت بخشی گئی۔اور تمہارے درمیان اس مبارک نبی کا روضہ ہے جس نے تو حید کو دنیا کے تمام ممالک میں پھیلایا اور اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کیا۔تمہی میں سے وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے سارے دل اور ساری روح اور کامل عقل وسمجھ کے ساتھ اللہ اور اسکے رسول کی مدد کی ، اور خدا کے دین اور اس کی پاک کتاب کی اشاعت کے لئے اپنے مال اور جانیں فدا کر دیں۔بے شک یہ فضائل آپ لوگوں ہی کا خاصہ ہیں اور جو آپ کی شایانِ شان عزت و احترام نہیں کرتا وہ یقینا ظلم وزیادتی کا مرتکب ہوتا ہے۔اے میرے بھائیو! میں آپ کی خدمت میں یہ خط ایک زخمی دل اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔پس میری بات سنو، اللہ تعالیٰ تمہیں اسکی بہترین جزاء عطا ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 419-422) فرمائے۔20