مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 466 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 466

444 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول غَزْلَهَا (النحل: 93) (ترجمہ: اس عورت کی مانند مت بنو جس نے اپنے کاتے ہوئے سوت کو اس کے مضبوط ہو جانے کے بعد کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا ) میں اس دعا پر اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمان ممالک کو اس لمبی نیند سے بیدار ہونے کی توفیق بخشے جس میں وہ مبتلا تھے اور اغیار کے تصرفات سے ان کو آزاد کرے اور مسلمان کی اس شان کو بحال کرے جو اسے گزشتہ زمانہ میں حاصل تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ عزت اسے عطا کرے۔اللھم آمین۔مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ الفضل 4 تبوک 1331 هش بمطابق 4 /ستمبر 1952ء صفحه 2-3 الخص از تاریخ احمدیت جلد 15 صفحہ 301-336 ) مصری زعماء اور صحافیوں کا زبردست احتجاج مفتی صاحب کے اعتراضات کے شافی جوابات کے بعد اب ہم مفتی مصر کے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر فتوی کفر اور اس پر مصری اور دیگر غیرت مند اور باوفا اصحاب کے رد عمل کے تذکرہ کی طرف لوٹتے ہیں۔اس فتوی کی اشاعت پر مصریوں کو از حد قلق ہوا اور مصری عوام و خواص سرتا پا احتجاج بن گئے۔چنانچہ اس موقعہ پر مصری زعماء اور پریس نے جو بیانات دئے وہ ان کی فرض شناسی ، تدبر اور معاملہ فہمی کی بہت عمدہ مثال تھی۔ان بیانات کا ترجمہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کا بیان عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عبد الرحمن عزام پاشا نے شدید تنقید کی اور الاخبار الجدیدہ (جس میں فتویٰ شائع ہوا تھا) کے نمائندہ خصوصی کو حسب ذیل بیان دیا:۔میں حیران ہوں کہ آپ نے قادیانیوں یا چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب وزیر خارجہ پاکستان کے متعلق مفتی کی رائے کو ایک مؤثر مذہبی فتوی خیال کیا ہے۔اگر یہ اصول مان لیا جائے تو پھر بنی نوع انسان کے عقائد ، ان کی عزت و وقار اور ان کا سارا مستقبل محض چند علماء کے خیالات و آراء کے رحم و کرم پر آرہے گا۔