مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 465 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 465

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 443 مخاصم حکومتوں کی حدیں ختم ہوتی تھیں اور کمزور قبائل کے علاقے شروع ہوتے تھے وہاں وہ ٹھہر گئے اور انہوں نے جنگ بند کر دی اگر وہ ایسا نہ کرتے تو آج یورپین لوگوں کے لئے افریقن کالونیز کے بنانے کی گنجائش نہ رہتی۔وسطی اور جنوبی افریقہ کی کونسی طاقت تھی کہ جس نے مسلمانوں کے ان لشکروں کو روکا جنہوں نے روسی ، ہسپانوی، فرانسیسی اور اطالوی منظم لشکروں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔وہ اسلام کی منصفانہ، عادلانہ اور رحیمانہ تعلیم ہی تھی جس نے یہ عظیم الشان معجزہ دنیا کو دکھایا اور جس کی بدولت اب مسلمان ہر سیاسی مجلس میں یورپ اور امریکا کے سیاسی لوگوں کے سامنے اپنا سر اونچا رکھ سکتا ہے۔مضمون ختم کرنے سے پہلے میں عرب اور مصر کے پریس کو ایک خاص ذمہ داری کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ ایک لمبے افتراق کے بعد اکثر مسلمانوں میں اتحاد کا جوش پیدا ہو رہا ہے۔پاکستان سے عرب ممالک اور مصر نے جس ہمدردی کا سلوک کیا ہے یا عرب اور اسلامی امور سے جس ہمدردی کا ثبوت پاکستان نے دیا ہے وہ اس زمانہ کی خوشگوار ترین باتوں میں سے ہے۔مگر مذکورہ بالا امر کی اشاعت نے جماعت احمدیہ ہی نہیں پاکستان کے رستہ میں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔اس مضمون کی بناء پر جو سرتا پا غلط ہیں ہندوستان پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے کہ اس میں رہنے والی بعض جماعتیں ہندوستان پر حملہ کرنے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔ہم بتا چکے ہیں کہ یہ الزام سو فیصدی غلط ہے مگر ہندوستان کا متعصب عصر اس الزام سے ضرور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریگا اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرے گا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ الزام ایک جماعت پر ہے نہ کہ پاکستان پر۔کیونکہ ہندوستان کا متعصب گروہ کہے گا کہ جس امر کی اطلاع مصر کے ایک نامہ نگار کو مل گئی پاکستان کی حکومت کو اس کی کیوں اطلاع نہ ملی ہوگی۔دوسرے وہ کہیں گے کہ جس جماعت پر یہ الزام ہے پاکستان کا وزیر خارجہ اس کا ممبر ہے پس وہ اس سے ناواقف نہیں ہوسکتا۔ان حالات میں ایک نامہ نگار کی خواب پریشان پاکستان کیلئے کتنی مشکلات اور بدنامی کی صورت پیدا کرسکتی ہے اور کیا ی ظفر اللہ خاں کی خدمات پاکستان کا اچھا بدلہ ہو گا ؟ ہر گز نہیں۔علاوہ اس کے کہ یہ جھوٹ ہے، یہ ایک وفادار دوست پر ناواجب حملہ بھی ہے جسے مصر کا غیور مسلمان یقیناً برداشت نہیں کریگا۔اس کوشش کے بعد جو عرب اور مصر نے پاکستان کی مملکت کے استحکام کے لئے کی، ایسی آواز کو اٹھنے دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ