مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 464 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 464

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کر جائے گی۔442 ایک بات ہماری طرف یہ بھی منسوب کی گئی ہے کہ ہم ہندوستان کو فتح کر کے ساری دنیا کو فتح کرنا چاہتے ہیں یہ اتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ مجھے تعجب ہے کہ ایک تعلیم یافتہ آدمی کو ہماری طرف یہ بات منسوب کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے ہاں یہ پیشگوئیاں موجود ہیں کہ ہم پھر قادیان میں اکٹھے ہوں گے لیکن یہ بات تبلیغ سے بھی ہوسکتی ہے۔اور یہ بات پاکستان اور ہندوستان کے باہمی سمجھوتہ سے بھی ہوسکتی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالهُدى وَدِينِ الحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (سورة توبه :33: الفتح : 29 ، الصف : 10) مفسرین ( تفسیر ابن جریر مطبوعہ مصر زیر آیت سورۃ صف - تفسیر حسینی مترجم فارسی صفحہ 884 زیر سورت صف مطبع کریمی بمبئی۔تفسیر غرائب القرآن برحاشیہ ابن جریر - بحار الانوار جلد 13 صفحہ 12۔غایۃ المقصو دجلد 2 صفحہ 133) کہتے ہیں کہ یہ آخری زمانہ کے متعلق ہے کیونکہ جمیع ادیان پر غلبہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوا تو کیا ان آیات کے یہ معنی کئے جائیں کہ مصر، شام یا سعودی عرب یا پاکستان یا کوئی اور اسلامی مملکت یہ ارادہ کر رہی ہے کہ باری باری چین، جاپان ، روس اور جرمنی پر حملہ کر کے اسے فتح کرینگے اور ساری دنیا میں اسلام کو غالب کر دینگے۔خدا تعالیٰ نے اسلام کے متعلق ایک خبر دی ہے اور مسلمان اس پر یقین رکھتے ہیں مگر ان میں سے کوئی دوسری اقوام پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں کرتا اور اس خبر کے پورا ہونے کی تفصیلات کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیتا ہے اسی طرح قادیان میں احمدیوں کے لئے آزادی حاصل ہونے کی پیش گوئی موجود ہے۔لیکن وہ ہوگی انہیں ذرائع سے جو قرآن مجید کے نزدیک جائز ذرائع ہیں۔اور قرآن کریم کسی ایسی قوم کو دوسرے ملک سے لڑنے کی اجازت نہیں دیتا جس کے پاس حکومت نہیں وہ اسے فساد قرار دیتا ہے۔پس ہمارا کوئی ایسا ارادہ نہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے مجا نہیں نہیں جو اس قسم کے خیالات کو اپنے دل میں جگہ دیں ہم یہ جائز نہیں سمجھتے کہ بغیر اس کے کہ غیر قومیں ہم سے لڑیں ہم ان سے خود ہی جنگ شروع کر دیں۔یہ مغربی حکومتوں کا حصہ ہے اور انہی کو مبارک رہے۔اسلام نے کبھی بھی اپنی حکومت کے زمانہ میں اپنے کمزور ہمسایہ پر دست درازی نہیں کی۔وسطی اور جنوبی افریقہ کے وسیع علاقے اس بات کے شاہد ہیں کہ شمالی افریقہ میں با قاعدہ حکومتیں قائم تھیں جو اسلام سے ٹکرائیں اور اسلام ان سے ٹکرایا لیکن اسلام کے لشکر جب ان حدود تک پہنچتے جہاں پر