مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 463 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 463

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 441 ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ، جو تمام جہان سے بہتر ہیں فرمانبرداری کرتے ہیں۔آپ دنیا کی کی حفاظت کرنے والے خدا کے نور ہیں اور تمام اندھیرے آپ کی بدولت دُور ہوتے ہیں۔اور جو کوئی اس کے خلاف ہمارے متعلق کہتا ہے وہ ہم پر ظلم کرتا ہے خدا تعالیٰ اس پر رحم کرے اور خدا تعالیٰ اسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کی فتیح عادت سے بچائے۔ہمارے متعلق یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہم جہاد کے منکر ہیں۔یہ درست نہیں۔جہاد کا حکم قرآن کریم میں ہے اور قرآن کریم ہمارے نزدیک غیر منسوخ ہے پھر ہم جہاد کو کس طرح منسوخ کر سکتے ہیں؟ جہاد کے متعلق ہم نے جو کچھ لکھا ہے وہ بعض ہندوستانی ملاؤں کے عقیدہ کے خلاف لکھا ہے ، جن کے نزدیک اکا دُکا غیر مسلم مل جائے تو اسے قتل کر دینا یا جبرا کسی سے کلمہ پڑھوا لینا یا اپنی ہمسایہ قوموں سے بلا کسی ظہور فساد کے لڑ پڑنا جہاد کہلاتا ہے۔اس عقیدہ سے اسلام دنیا میں بدنام ہو رہا ہے اور بدنام ہو چکا ہے۔مصر کے تمام بڑے مصنف جہاد کی اس تشریح میں ہم سے متفق ہیں۔ہمارے نزدیک جو جہاد قرآن کریم میں پیش کیا گیا ہے اس کے بغیر کوئی آزاد قوم دنیا میں محفوظ نہیں رہ سکتی۔مذہبی اور سیاسی طور پر ان شرائط کے ساتھ ظالم سے لڑنا جو قرآن مجید میں بیان کئے ہیں ایک ایسا ضروری امر ہے کہ جس کے بغیر حریت ضمیر اور حریت بلاد قائم ہی نہیں رہ سکتی ہم اس جہاد کے صرف قائل ہی نہیں بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں ہم تو بر بریت کے مخالف ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے الإمامُ جُنَّة يقَاتَلُ مِنْ وَرَائه - ( بخاری کتاب الجہاد مسلم کتاب الامارۃ۔ابوداؤد کتاب الجہاد۔نسائی باب البيعة ) ہماری طرف یہ بھی منسوب کیا گیا ہے کہ ہم تناسخ کو مانتے ہیں اور شاید یہ عقیدہ اس امر سے مستنبط کیا گیا ہے کہ ہم بانی سلسلہ کو مسیح کہتے ہیں یہ الزام بھی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ہم تناسخ کے منکر ہیں اور خود بانی سلسلہ نے تناسخ کے عقیدہ کا اپنی کتابوں میں رد کیا ہے ہمارا عقیدہ صرف یہ ہے کہ مسیح موعود جس کی آمد کی خبر انجیلوں میں دی گئی ہے یا حدیثوں میں ہے اس سے مراد وہ مسیح ناصری نہیں ہے جس کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة ( آل عمران : 56) بلکہ جیسا کہ مسیح علیہ السلام نے خود یوحنا کو ایلیا کا نام دیا ہے اسی طرح ہمارا عقیدہ ہے کہ اس امت میں سے عیسائیت کے غلبہ کے وقت میں ایک ایسا شخص کھڑا ہو گا جو اسلام کی طرف سے عیسائیت کے ساتھ علمی و روحانی جنگ لڑے گا نہ یہ کہ مسیح علیہ السلام کی روح اس میں حلول