مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 462 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 462

440 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول لوگ بیت المقدس کو محترم سمجھتے ہیں۔کیا بیت المقدس ہمارا قبلہ ہے؟ اہل مصر خصوصاً اور سب مسلمان عموماً از ہر کو علوم اسلامیہ کی تعلیم و تدریس کا ایک بڑا مرکز سمجھتے ہیں اور اس کا بڑا احترام کرتے ہیں۔کیا اہل مصر اور ہم لوگ از ہر کو اپنا قبلہ سمجھتے ہیں؟ قبلہ تو وہ ہے جس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جائے اور ہم سب نماز خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھتے ہیں اور اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح قرآن ، حدیث اور سنت نے بیان کیا ہے۔خانہ کعبہ کا ہم حج کرتے ہیں۔میں نے بھی خانہ کعبہ کا حج کیا ہے اور دوسری دفعہ حج کرنے کی خواہش رکھتا ہوں۔پس یہ ہرگز درست نہیں کہ ہم خانہ کعبہ کے سوا کسی اور مقام کو قبلہ قرار دیتے ہیں۔اسلام کا قبلہ اور ہمارا قبلہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن مجید میں بیان فرمایا گیا ہے اور قیامت تک وہی قبلہ رہے گا۔اسی طرح یہ امر بھی درست نہیں ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کا امتی اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں اور اس پر فخر کرتے تھے تو پھر ہم لوگ کس طرح کسی اور کے امتی ہو سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی امتی ہیں اور ہمارے سلسلہ کے بانی بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی تھے اور ان کے دعوئی کے مطابق انہیں جو کچھ ملا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی وجہ سے ہی ملا۔پس ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے پر فخر کرتے ہیں اور اسی مقام پر زندہ رہنا چاہتے ہیں اور اسی مقام میں مرنا چاہتے ہیں اور اسی مقام پر دوبارہ اٹھنا چاہتے ہیں۔بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:۔وموتى بسبل المصطفى خير ميتة فإن فرتُها فسأحشرن بالمقتدى کرامات الصادقین صفحہ 53 مطبوعہ 1893ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں میری موت بہترین موت ہے۔اگر میری یہ آرزو پوری ہوئی تو مجھے اپنے پیشوا کے ساتھ ہی اُٹھایا جائے گا۔إنا نطيع محمدا نور المهيمن دافع خير الورى الظلماء انجام آتھم صفحہ 268 مطبوعہ جنوری 1897 ء )