مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 458 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 458

امور پر 436 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول یعنی سابق بادشاہ فاروق کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ ہر قسم کی نصیحت اور راہنمائی کو نا پسند کرتے تھے بالخصوص سیاسی اور مذہبی معاملات میں جو لوگ ان کو نصیحت کرنے کی جرات کرتے وہ انہیں سخت حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔ایک دفعہ جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکستان مجلس اقوام متحدہ میں شمولیت کے بعد واپسی پر مصر سے گزرے تو سابق شاہ فاروق نے جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کا استقبال کیا۔اس موقعہ پر موصوف نے جن کا شمار دنیا کے خاص سیاسی اور اسلامی معزز شخصیتوں میں ہوتا ہے شاہ فاروق کو دوران ملاقات مذہبی مشتمل مشورے دئے۔اس پر شاہ فاروق خفا ہو گئے اور اس ملاقات کے بعد علماء از ہر کوی بلا کر مجبور کیا کہ وہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کے ملحد اور خارج از دین ہونے کا فتویٰ دیں۔چنانچہ فتویٰ صادر کر دیا گیا اور اخبارات میں اس کی اشاعت بھی ہوئی۔اس فتویٰ سے پاکستان میں کہرام مچ گیا۔پاکستانی سفیر مقیم قاہرہ نے سرکاری طور پر مصری حکومت کے پاس احتجاج کیا۔اس وقت اس حکومت کے وزیر اعظم نجیب الہلالی تھے۔وزیر اعظم الہلالی نے اس بیا کا نہ فتویٰ کی تردید اور اور اسے لغو قرار دینے کا معاملہ شاہ فاروق کے سامنے رکھا اور دستخط کے لئے کاغذ پیش کیا لیکن شاہ فاروق نے الہلالی کی تجویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس پر وزیر اعظم الہلالی نے اصرار کرتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دی۔بایں ہمہ سابق شاہ فاروق نے عواقب سے بے نیاز ہو کر متکبرانہ انداز میں فتویٰ کی منسوخی پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔چنانچہ وزیر اعظم الہلالی پاشا مستعفی ہو گئے۔لمحہ فکریہ۔کتنی عجیب بات ہے کہ جس کے کہنے پر یہ فتویٰ جاری ہوا اس کی بداعمالیوں اور سیاہ کاریوں کا آج سارا عالم اسلام اقراری ہے۔اور جس شخص نے فتویٰ جاری کیا اس کے بارہ میں اسکے ہم وطنوں کے بقول اتنا کہنا کافی ہے کہ وہ مفتی الديار المصر یہ کم اور مفتی القصور الملکیت زیادہ تھے۔جن کے نزدیک کسی کے اسلام اور کفر کا فیصلہ کرنے کا معیار قرآن وحدیث نہیں بلکہ قول شاہ یا اشارہ ملک ہو ا سکے فتویٰ کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ کفر کا فتویٰ اس وجہ سے صادر کروایا گیا کہ خود انکے بقول چوہدری صاحب نے کہا تھا کہ مسلمان حکومتوں کے سربراہوں اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ اپنی زندگی میں اسلامی طریقوں کو رواج