مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 457
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 435 شیخ مخلوف ( جنہیں آلہ کار بنایا گیا تھا) کے بیان پر مصر اور پاکستان کے اخبارات نے پُر جوش جوابی حملہ کیا اور اس کی تغلیط کی۔ہلالی پاشا نے جو ان دنوں مصر کے وزیر اعظم تھے قسم کھائی کہ شیخ مخلوف کی اس حماقت اور رعونت کے باعث انہیں افتاء کے منصب سے معزول کر دوں گا۔لیکن انہیں بہت جلد معلوم ہو گیا کہ (سابق ) شاہ مصر تو شیخ مخلوف کے سر کا بال تک بر کا نہیں ہونے دیں گے کیونکہ یہی سر بادشاہ کیلئے حسب منشاء فتویٰ اور جواز پیدا کرتا رہتا ہے۔(کتاب فاروق۔۔۔ملگا، مطبوعہ مصر صفحہ 72-73 بحوالہ رسالہ البشری ( حیفا فلسطین ) مجلد 18 دسمبر 1952ء) الاستاذ احمد بہاء الدین نے شاید یہ بات ہفت روزہ ”الصیاد‘ (7 /اگست 1952ء ) کی مندرجہ ذیل خبر سے اخذ کی ہے۔نصحه اشتهر عن الملك السابق فاروق انه كان يكره النصح والإرشاد وخاصة في المسائل السياسية والدينية ويكره الذين يجراؤن على الله إرشاده وحدث حين مرالسيد ظفر و خان، وزیر خارجيه الباكستان بمصر عائدا من هيئة الأمم المتحدة أن استقبله الملك السابق ، فما كان من الوزير الباكستاني الذي يعتبر من كبار رجالات السياسة والإسلام إلا أن وجه للملك بعض النصائح السياسية والدينية فغضب الفاروق واستدعى على إثر المقابلة شيوخ الأزهر وأجبرهم على إصدار فتواى ضد ظفر الله خان بأنه ملحد و خارج على الدين، وصدرت الفتوى و نشرت في الصحف۔۔۔۔۔۔۔وقامت قيامة لباكستان ، وقدم وزيرها في القاهرة احتجاجاً رسميا إلى الحكومة المصرية التي كانت يرأسها أحمد نجيب الهلالى۔۔۔۔۔۔۔فبادر الهلالي إلى وضع المرسوم بدحض الفتواى الجرئية وإلغائها، ثم حمله إلى الملك ليوقعه ولكن فاروق رفض توقيع المرسوم، فأصر الهلالي و هدد بالاستقالة۔۔۔۔۔۔۔وهز الملك السابق كتفيه مستهزأ واستقال۔الهلالي۔الصياد" 5 اگست 1952ء)