مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 452 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 452

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 430 میں صحیح معنوں میں مسلمان ہوں تو کیا قادیانیت کے متعلق چند کتب کا مطالعہ مجھے قادیانی بنائی سکتا ہے؟ میں جن دنوں اس سفارت خانہ میں جایا کرتا تھا مجھے معلوم ہوا کہ میں اکیلا ہی اس کام کے لئے مقرر نہیں کیا جارہا تھا بلکہ کچھ اور لوگوں کو بھی اس میں شریک کیا جا رہا ہے۔پھر مجھے یہ بھی پتہ لگا کہ اس کام کے کرنے سے صرف میں نے ہی انکار نہیں کیا بلکہ بعض دوسرے لوگوں نے بھی استعمار کا آلہ کار بننے سے انکار کر دیا تھا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب 1948ء میں ارض مقدسہ کا ایک حصہ کاٹ کر صیہونی حکومت کے سپرد کر دیا گیا تھا اور اسرائیلی سلطنت قائم ہوئی تھی۔اور میرا خیال ہے مذکورہ بالا سفارت خانہ کا یہ اقدام در حقیقت ان دوٹر یکٹوں کا عملی جواب تھا جو تقسیم فلسطین کے موقع پر اسی سال جماعت احمدیہ نے شائع کئے تھے۔ایک ٹریکٹ کا عنوان هئية الأمم المتحدة وقرار تقسیم فلسطین“ تھا جس میں مغربی استعماری طاقتوں اور صیہونیوں کی ان سازش کا انکشاف کیا گیا تھا جن میں فلسطینی بندرگاہوں کے یہودیوں کے سپرد کر دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔دوسرا ٹریکٹ الكفر ملة واحدة“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس میں مسلمانوں کو کامل اتحاد اور اتفاق رکھنے کی ترغیب دی گئی تھی اور صیہونیوں کے مقابلہ اور ارض مقدسہ کو ان سے پاک کرنے کے لئے اموال جمع کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔یہ وہ واقعہ ہے جس کا مجھے ان دنوں ذاتی طور پر علم ہوا تھا اور مجھے پورا یقین ہے کہ جب تک احمدی لوگ مسلمانوں کی جماعتوں میں اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے اور ان جب تک وہ ان ذرائع کو اختیار کرنے کے لئے کوشاں رہیں گے جن سے استعماری طاقتوں کی پیدا کردہ حکومت اسرائیل کو ختم کرنے میں مددمل سکے تب تک استعماری طاقتیں بعض لوگوں اور فرقوں کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں گی کہ وہ احمدیوں کے خلاف اس قسم کی نفرت انگیزی اور نکتہ چینی کرتے رہیں تاکہ مسلمانوں میں اتحاد نہ ہو سکے۔“ از تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 398-402) قارئین کرام کو اس مذکورہ بالا اقتباس میں حقیقی ، غیر جانبدارانہ اور پیشہ وارانہ صحافت کی ایک حسین تصویر ملے گی۔آج جبکہ اکثر اوقات ملکوں کی صحافت اقتدار اور اثر و رسوخ و طمع کیا بھینٹ چڑھ جاتی ہے ، جبکہ حقیقتیں مسخ ہو جاتی ہیں اور دجل کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگتا