مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 451
429 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول دینا صرف ظن اور گمان ہے مگر میں قارئین کرام کو پورے یقین کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے اس امر کی پوری پوری اطلاع ہے کہ در حقیقت یہ سب کا رروائی استعماری طاقتیں کروا رہی ہیں کیونکہ فلسطین کی گزشتہ جنگ کے ایام میں 1948ء میں استعماری طاقتوں نے خود مجھے کو اس معاملے میں آلہ کار بنانے کی کوشش کی تھی۔اُن دنوں میں ایک ظرافتی پرچے کا ایڈیٹر تھا اور اس کا انداز حکومت کے خلاف نکتہ چینی پر مبنی تھا۔چنانچہ انہی دنوں مجھے ایک غیر ملکی حکومت کے ذمہ دار نمائندہ مقیم بغداد نے ملاقات کے لئے بلایا اور کچھ چاپلوسی اور میرے انداز نکتہ چینی کی تعریف کرنے کے بعد مجھے کہا کہ آ۔اپنے اخبار میں قادیانی جماعت کے خلاف زیادہ سے زیادہ دل آزار طریق پر نکتہ چینی جاری کریں کیونکہ یہ جماعت دین سے خارج ہے۔میں نے جواب میں عرض کیا کہ مجھے تو اس جماعت اور اس کے عقائد کا کچھ پتہ نہیں میں ان پر کس طرح نکتہ چینی کر سکتا ہوں؟ اس نمائندہ نے مجھے بعض ایسی کتابیں دیں جن میں قادیانی عقائد پر بحث کی گئی تھی اور اس نے مجھے بعض مضامین بھی دیئے تاوہ مجھے اپنے مقالات کے لکھنے میں فائدہ دیں۔چنانچہ ان کتابوں کے مطالعہ سے مجھے اس جماعت کے بعض عقائد کا علم ہوا۔لیکن میں نے ان میں کوئی ایسی بات نہ دیکھی جس سے میرے عقیدہ کے مطابق انہیں کا فرقرار دیا جا سکے۔اس استعماری نمائندہ سے چند ملاقاتوں کے بعد میں نے اس کام کرنے سے معذرت پیش کر دی اور کہا کہ میرے عقیدہ کے مطابق یہ طریق اس وقت اسلامی فرقوں میں اختلاف و انشقاق بڑھانے والا ہے۔اس شخص نے مجھ سے کہا کہ قادیانی تو مسلمان ہی نہیں اور ہندوستان کے تمام فرقوں کے علماء انہیں کافر قرار دے چکے ہیں۔میں نے اس سے کہا کہ ہندوستانی علماء کے اقوال قرآن مجید کی اس آیت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا۔(النساء: 95) کہ جو شخص تمہیں السلام علیکم کہے اس کو کا فرمت کہو۔میرا اتنا کہنا تھا کہ وہ شخص غضب ناک ہو گیا اور کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی پراپیگنڈے نے تمہارے دل پر بھی اثر کر دیا ہے اور تُو قادیانی ہو گیا ہے اور اسلام سے خارج ہو گیا ہے اسی لئے تو انکی طرف سے جواب دے رہا ہے۔میں نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ جناب یقین جانیں کہ میں اتنے لمبے عرصہ سے مسلمان کہلانے اور مسلمانوں میں رہنے کے باوجود یہ دعویٰ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا کہ