مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 450 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 450

428 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول عراق میں اتنے عرصہ سے رہنے کے باوجود انہوں نے کسی عراقی شخص کو اپنی جماعت میں داخل نہیں کیا۔ان کا کوئی اپنا معبد نہیں ہے اور نہ ہی ان کے کوئی خاص مذہبی اجتماعات ہیں۔ان کی ساری جدو جہد بعض اخبارات اور ایسے ٹریکٹ تقسیم کرنے پر منحصر ہے جن میں اسلام کے غلبہ کے متعلق دلائل دیئے گئے ہیں، فلسطین اور بعض اسلامی حکومتوں کے دفاع پر گفتگو کی گئی ہے۔اس جگہ پر پڑھنے والے کے دل میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ جب واقعہ یہ ہے تو اخبارات میں قادیانیوں پر اس طرح نکتہ چینی کرنے اور اس حملے کی کیا وجہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کا صرف ایک سبب ہے اور وہ یہ کہ استعماری طاقتیں مسلمانوں میں تفرقہ اور شقاق پیدا کرنے کے لئے خاص کوشش کر رہی ہیں اور وہ انہیں اپنی انگلیوں پر نچانا چاہتی ہیں کیونکہ مسلمان ابھی تک اس انتظار میں ہیں کہ وہ یوم موعود کب آتا ہے کہ جب وہ دوبارہ بلا دمقدسہ کو یہودیت کی لعنت سے پاک کرنے کے لئے متحد ہو کر قدم اٹھائیں گے اور فلسطین اس کے جائز اور شرعی حقداروں کو مل سکے گا۔استعماری طاقتیں ڈرتی ہیں کہ کہیں عربوں کا یہ خواب پورا نہ ہو جائے اور اسرائیل سلطنت صفحہ ہستی سے مٹ نہ جائے جس کے قائم کرنے کی کے لئے انہوں نے بڑی بڑی مشکلات برداشت کی ہیں اس لئے یہ غیر ملکی حکومتیں ہمیشہ کوشش کرتی ہیں کہ مسلمانوں میں مختلف نعرے لگوا کر منافرت پیدا کی جائے اور بعض فرقے احمدیوں کی تکفیر اور ان پر نکتہ چینی کرنے کے لے کھڑے ہو جائیں یہاں تک کہ اس طریق سے حکومت پاکستان اور بعض ان عرب حکومتوں میں بھی اختلاف پیدا ہو جائے جن کے اخبارات پاکستان کے وزیر خارجہ ظفر اللہ خاں احمدی کو کافر قرار دیتے ہیں۔غالباً بہت سے پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کی بعض جماعتوں نے اس امر کی کوشش کی تھی کہ مسلمان حکومتوں کا ایک اسلامی بلاک قائم کیا جائے تاکہ ان کی ہستی اور ان کی آزادی قائم رہے اور ان کی بیرونی سیاست ایک نہج پر چلے مگر یہ کوشش بعض دوسری مسلمان جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکیں۔اس تجویز کی ناکامی کے اسباب میں در حقیقت بڑا سبب وہ مسئلہ تکفیر ہے جو بعض انتہاء پسند مولویوں کے ہاتھ میں استعماری طاقتوں نے دیا تھا تا کہ وہ اس تجویز کے محرکین کو قادیانی اور اسلام سے خارج کہہ کر اس کا ناکام بنانے کی کوشش کریں۔شاید کسی شخص کو یہ خیال پیدا ہو کہ میرا اس معاملے میں استعماری طاقتوں کو دخل انداز قرار