مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 449
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 427 اخبارات میں اس کے متعلق اس طرح نکتہ چینی کرنے کی کیا وجہ ہے؟ قادیانیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان ایک مشکل در پیش ہے۔قطع نظر اس امر کے کہ وہ اتہامات جو قادیانیوں پر لگائے گئے ہیں وہ درست ہیں یا غلط ہیں قادیانی لوگ اپنے آپ کو جماعت احمد یہ کہتے ہیں اور وہ میرزا غلام احمد صاحب کے پیرو ہونے کے مدعی ہیں جو ہندوستان میں قادیان کی بستی میں رہتے تھے اور جنہیں ان کے دعووں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا تھا کہ دین اسلام کو مستحکم کریں۔قادیانی انہیں وہی مہدی موعود اور مسیح معہود سمجھتے ہیں جن کے آخری زمانہ میں آنے کے متعلق مختلف مذہبی کتابوں میں پیشگوئی پائی جاتی ہے۔قادیانی اسلامی احکام پر عمل پیرا ہیں اور اسلام کے لئے غیرت رکھتے ہیں اور وہ حنفی مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔احمدیوں کے مخالف انہیں قادیانی کے لفظ سے پکارتے ہیں اور ان کے ظاہری طور پر اسلام کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے اور شریعت کے مطابق دینی فرائض ادا کرنے کے باوجود انہیں مرتد قرار دیتے ہیں۔احمدیت یا قادیانیت کوئی آج نئی پیدا نہیں ہوئی بلکہ قریباً ستر سال پہلے ہندوستان کے شہر قادیان میں اس کی بنیاد رکھی گئی اور جو لوگ اس طریقہ کو درست سمجھتے تھے انہوں نے اپنے عقیدہ کے مطابق اس کی پیروی کی۔ہمارے نزدیک خواہ یہ طریقہ درست ہو یا باطل ہو، خواہ یہ لوگ مسلمان ہوں یا اسلام سے خارج ہوں بہر حال اخبارات کے لئے کوئی معقول وجہ اس امر کی نہیں ہے کہ وہ اس نازک وقت میں جبکہ مسلمانوں کو چاروں طرف سے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اتحاد اور یک جہتی کی ضرورت ہے اس طرز پر قادیانیت کو اپنی تنقید کا ہدف بنا ئیں۔شاید قارئین کو تعجب ہوگا جب انہیں معلوم ہوگا کہ سارے عراق میں اس جماعت کے صرف 18 خاندان بستے ہیں۔9 خاندان بغداد میں ، چار بصرہ میں، چار حبانیہ میں اور ایک خاندان خانقین میں۔اور یہ سب لوگ ہندوستان سے عراق میں تجارت کی نیت سے آئے تھے۔بعض نے ان میں سے عراقی قومیت کے سرٹیفیکیٹ حاصل کر لئے ہیں اور بعض اپنی ہندوستانی قومیت پر قائم رہے جسے انہوں نے ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستانی قومیت میں تبدیل کر لیا۔