مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 443 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 443

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 421 الكُفْرُ مِلَّة وَاحِدَةٌ لفظ بلفظ پورا ہو رہا ہے۔یہودی اور عیسائی اور دہریہ مل کر اسلام کی ہی شوکت کو مٹانے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔پہلے فرداً فرداً یور بین اقوام مسلمانوں پر حملہ کرتی تھیں مگر اب مجموعی صورت میں ساری طاقتیں مل کر حملہ آور ہوئی ہیں۔آؤ ہم سب مل کر ان کا مقابلہ کریں کیونکہ اس معاملہ میں ہم میں کوئی اختلاف نہیں۔دوسرے اختلافوں کو ان امور میں سامنے لانا جن میں کہ اختلاف نہیں نہایت ہی بیوقوفی اور جہالت کی بات ہے۔قرآن کریم تو یہود سے فرماتا ہے:۔قُلْ يَا هُلَ الْكِتَبِ تَعَالَوُا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ إِلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ - (آل عمران:65) اتنے اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی قرآن کریم یہود کو دعوت اتحاد دیتا ہے۔کیا اس موقع پر جبکہ اسلام کی جڑوں پر تبر رکھ دیا گیا ہے جب مسلمانوں کے مقامات مقدسہ حقیقی طور پر خطرے میں ہیں وقت نہیں آیا کہ آج پاکستانی ، افغانی ، ایرانی ، ملائی، انڈونیشین ، افریقن ، بر بر اور ترکی یہ سب کے سب اکٹھے ہو جائیں اور عربوں کے ساتھ مل کر اس حملہ کا مقابلہ کریں جو مسلمانوں کی قوت کو توڑنے اور اسلام کو ذلیل کرنے کے لئے دشمن نے کیا ہے؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم اور حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی ایک دفعہ پھر فلسطین میں آباد ہوں گے لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے آباد ہوں گے۔فلسطین پر ہمیشہ کی حکومت تو عِباد الله الصالحون کے لئے مقرر کی گئی ہے۔پس اگر ہم تقویٰ سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ کی پہلی پیشگوئی اس رنگ میں پوری ہو سکتی ہے کہ یہود نے آزاد حکومت کا وہاں اعلان کر دیا ہے لیکن اگر ہم نے تقویٰ سے کام نہ لیا تو پھر وہ پیشگوئی لمبے وقت تک پوری ہوتی چلی جائے گی اور اسلام کے لئے ایک نہایت خطرناک دھکا ثابت ہوگی۔پس ہمیں چاہئے اپنے عمل سے، اپنی قربانیوں سے، اپنے اتحاد سے، اپنی دعاؤں سے ، اپنی گریہ وزاری سے اس پیشگوئی کا عرصہ تنگ سے تنگ کر دیں اور فلسطین پر دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو قریب سے قریب تر کر دیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ایسا کر دیں تو اسلام کے خلاف جو رو چل رہی ہے وہ الٹ پڑے گی۔عیسائیت کمزوری اور انحطاط کی طرف مائل ہو جائے گی اور مسلمان پھر ایک دفعہ بلندی اور رفعت کی طرف قدم اٹھانے لگ جائیں گے۔شاید یہ قربانی ہے