مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 436 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 436

414 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول دلائل کی صحت اور حقانیت کے بارہ میں ہی عارضی اختلافات ہیں بلکہ بعض مندوبین کو اس امر کا نی بھی احساس ہے کہ روس سے متعلق امریکہ کہ موجودہ حکمت عملی کے لئے عربوں کی حمایت اور ہمدردی انتہائی اور فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔روس نے بھی ابھی تک اس مسئلہ پر اپنی روش کا اظہار نہیں کیا ہے۔امریکہ کی خاموشی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ وہ روس کو اپنی خاموشی سے تھکا کر بولنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور خودسب سے آخر میں تقریر کرنا چاہتا ہے تاہم معلوم ہوتا ہے کہ فلسطینی مسئلہ اب بری طرح روس اور امریکہ کی باہمی کشمکش میں الجھ جائے گا۔(نوائے وقت 12 اکتوبر 1947 ، صفحہ 1 ) دوسری خبر فلسطین کے متعلق سر ظفر اللہ کی تقریر سے دھوم مچ گئی عرب لیڈروں کی طرف سے سر ظفر اللہ خاں کو خراج تحسین نیو یارک۔10 اکتوبر مجلس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سر محمد ظفر اللہ خاں رئیس الوفد پاکستان نے جو تقریر کی وہ ہر لحاظ سے افضل و اعلیٰ تھی۔آپ تقریباً 115 منٹ بولتے رہے۔اس تقریر کا اثر یہ ہوا کہ جب آپ تقریر ختم کر کے بیٹھے تو ایک عرب ترجمان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین پر عربوں کے معاملہ کے متعلق یہ ایک بہترین تقریر تھی۔آج تک میں نے ایسی شاندار تقریر نہیں سنی۔سرمحمد ظفر اللہ خاں نے اپنی تقریر میں زیادہ زور تقسیم فلسطین کے خلاف دلائل دینے میں صرف کیا۔جب آپ تقریر کر رہے تھے تو مسرت و ابتہاج سے عرب نمائندوں کے چہرے تمتما اٹھے۔تقریر کے خاتمے پر عرب ممالک کے مندوبین نے آپ سے مصافحہ کیا اور ایسی شاندار تقریر کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ایک انگریز مندوب نے سر ظفر اللہ کو پیغام بھیجا کہ آپ کی تقریر نہایت شاندار تھی مجھے اس کی نقل بھیجئے میں انہماک سے اس کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں۔(نوائے وقت 12 اکتوبر 1947 ، صفحہ 2 کالم 2) چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے اس تاریخی خطاب نے اقوام عالم کے سامنے فلسطینی مسلمانوں کا مسئلہ حقیقی خدو خال کے ساتھ نمایاں کر دیا اور متعدد ممالک نے تقسیم فلسطین کے خلاف رائے دینے کا فیصلہ کر لیا لیکن بعد میں انہوں نے دنیا کی بعض بڑی طاقتوں کی طرف