مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 434
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول حرکت ہے۔412 چوہدری سر محمد ظفر اللہ نے بتایا کہ کس طرح امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہودی اثر کے ماتحت چھوٹی چھوٹی اقوام پر ناجائز دباؤ ڈالا اور دو تین فیصلہ کن ووٹ حاصل کر لئے جس کے مطابق ادارہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی تقسیم کا نامنصفانہ فیصلہ ہوا۔ظفر اللہ نے بتایا کہ 26 نومبر کو ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ ہم کامیاب ہو گئے ہیں اور مخالف فریق کو اپنی شکست کا یقین ہو گیا تھا لیکن عین آخری وقت رائے شماری بلا وجہ 28 نومبر پر ملتوی کر دی گئی تاکہ دوسرے ممالک پر دباؤ ڈال کر فلسطین کے متعلق ان کا رویہ تبدیل کیا جا سکے۔چنانچہ جب بیٹی کے مندوب نے رائے شماری کے بعد مجھ سے ملاقات کی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور اس نے افسوس ظاہر کیا کہ اسے آزادی کے ساتھ ووٹ دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔اکثر ایسے مندوبین نے جنہوں نے تقسیم فلسطین کے حق میں ووٹ ڈالے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے نہایت مجبوری کے عالم میں تقسیم فلسطین کے حق میں ووٹ ڈالے اور اسی میرٹ میں تقسیم فلسطین کا فیصلہ ہوا۔“ ”سر ظفر اللہ نے بتایا کہ جنرل اسمبلی میں کس طرح شروع میں عربوں کو تقسیم فلسطین کی سکیم کے استرداد کا یقین تھا لیکن بعد ازاں زبر دست سازشیں کی گئیں کہ عربوں کی حامی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا۔صدر اسمبلی نے رائے شماری کو 26 نومبر سے 28 نومبر پر ملتوی کر دیا۔دریں اثناء امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بعض مندوبین پر ان کی حکومتوں کی مدد سے دباؤ ڈالا اور عربوں کے حامی 17 مندوبین میں سے 4 مندوب دوسرے فریق سے جاملے۔لائبیریا کے نمائندے نے اعتراف کیا کہ واشنگٹن میں ان کے سفیر نے انہیں تقسیم فلسطین کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔بیٹی کے نمائندے نے ہمیں افسوس کے ساتھ بتایا کہ وہ اپنی حکومت کی تازہ ہدایات کے ماتحت اب تقسیم فلسطین کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔اس طرح بالآخر تقسیم فلسطین کے حق میں امریکی اور یہودی سازش کامیاب ہو گئی اور فلسطین کا فیصلہ کر دیا گیا۔“ (نوائے وقت 11 دسمبر 1947 ء صفحہ 6) اقوام متحدہ میں چوہدری صاحب کا موثر دفاع ان واقعات میں سے ایک اہم اور قابل ذکر واقعہ احمدیت کے مایہ ناز فرزند چوہدری محمد