مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 431
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل 409 جلال الدین صاحب شمس مبلغ لندن نے ایک پارٹی دی۔جس میں شہزادہ فیصل ، شیخ ابراہیم سلمان رئيس النيابة العامة ، شیخ حافظ و ہبہ، عونی بیک الہادی ، القاضی علی العمری اور القاضی محمد الشامی وغیرہ مندوبین کا نفرنس نے شرکت کی۔اس موقعہ پر امیر فیصل اور دوسرے عرب نمائندگان کے نام بذریعہ تار برقی جو پیغام حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ارسال فرمایا وہ اگر چہ پہلے مولانا جلال الدین صاحب شمس کی مساعی کے تذکرہ کے دوران درج ہو چکا ہے تاہم یہاں پر مضمون کے تسلسل اور قارئین کی یاد دہانی کے لئے دوبارہ نقل کیا جاتا ہے۔حضور نے فرمایا: ”میری طرف سے ہر رائل نس امیر فیصل اور فلسطین کا نفرنس کے ڈیلیگیوں کو خوش آمدید کہیں۔اور ان کو بتا دیں کہ جماعت احمد یہ کامل طور پر ان کے ساتھ ہے۔اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالی انکو کامیابی عطا کرے۔اور تمام عرب ممالک کو کامیابی کی راہ پر چلائے۔اور ان کو مسلم ورلڈ کی لیڈرشپ عطا کرے۔وہ لیڈرشپ جو ان کو اسلام کی پہلی صدیوں میں حاصل تھی۔“ از تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 556-557 ) مسئله فلسطین پر چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب کی تقریر یوں تو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب نے مسئلہ فلسطین پر بہت سے انٹرویوز اور لیکچرز دیئے لا تعداد بیانات اور مشورے دیئے لیکن ہم ذیل میں دو تقاریر پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب حج فیڈرل کورٹ آف انڈیا نے ”مسئلہ فلسطین کے مضمون پر وائی ایم سی اے ہال لاہور میں 27 جنوری 1946ء کو ایک نہایت اہم اور معلومات افزا تقریر فرمائی۔جلسہ کا اہتمام نوجوانان احمدیت کی بین الکلیاتی تنظیم احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن نے کیا اور صدارت کے فرائض جناب ڈاکٹر ای۔ڈی لوکس وائس پرنسپل ایف سی کالج لاہور نے انجام دیئے۔اخبار ”انقلاب (لاہور) نے اس تقریر کا ملخص حسب ذیل الفاظ میں شائع کیا۔برطانیہ اور امریکہ یہودی سرمایہ کے اثر کے باعث آزادانہ طور پر کوئی اقدام نہیں کر سکتے۔سیاسی حلقہ میں بھی یہودیوں کا اثر کم نہیں ہے۔موجودہ پارلیمنٹ کے دارالعوام میں 25 یہودی ممبر ہیں۔دو یہودی وزیر اور ایک یہودی سیکرٹری آف سٹیٹ، اسی طرح امریکہ میں کی