مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 15
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 15 شمولیت اختیار کی جن میں سے ایک حضرت شیخ محمد بن احمد مکی تھے۔ان تمام احباب کی فہرست حضور علیہ السلام نے اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کے آخر پر دی ہے۔کچھ عرصہ برکات سے مستفیض ہونے کے بعد 1893ء میں آپ مکہ شریف بخیریت پہنچ گئے۔فریضہ حج کی بجا آوری کے بعد 4 اگست 1893 ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں اپنے بخیریت مکہ معظمہ پہنچنے اور مختلف لوگوں سے حضور کا ذکر کرنے اور ان کے مختلف تاثرات کے ذکر کے بعد یہ خوشخبری لکھی کہ میں نے شعب عامر کے اپنے ایک دوست تاجر السید علی طالع تک پیغام حق پہنچایا اور اسے حضور کے دعویٰ سے مفصل خبر دی تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے کہا ہے کہ میں حضور کی خدمت میں عرض کروں کہ حضور انہیں اپنی کتب ارسال فرما ئیں تو وہ انہیں شرفاء وعلماءِ مکہ مکرمہ میں تقسیم کریں گے۔اس خط کے ملنے پر حضور نے اسے تبلیغ حق کا ایک غیبی سامان سمجھتے ہوئے ”حمامۃ البشری عربی زبان میں تصنیف فرمائی جس میں حضور نے دعویٰ مسیحیت ، دلائل وفات مسیح اور نزول مسیح اور خروج دجال کا کی حقیقت کا مفصل بیان اور مکفرین علماء کی طرف سے آپ کے عقائد اور دعویٰ پر اعتراضات کا جواب دیا ہے۔( ما خذ ازالہ اوہام ، آئینہ کمالات اسلام، حمامۃ البشری، رجسٹر بیعت مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 355 ،مضمون حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ مسیح الاول کی مالی تحریکات روز نامہ الفضل ربوہ مورخہ 4 جنوری2002ء، روزنامه الفضل 19 مئی 1983ء، تین سو تیرہ اصحاب صدق وصفا از نصر اللہ خان ناصر و عاصم جمالی صفحه 147-148 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجام آتھم کے آخر میں اپنے تین سو تیرہ اصحاب باصفا کی فہرست درج کی ہے اس میں بھی آپ کا نام نمبر 98 پر مذکور ہے۔ایک تصحیح ہمارے لٹریچر میں بعض جگہ حضرت محمد سعید الشامی الطرابلسی صاحب کو پہلا عرب احمدی لکھا گیا ہے۔لیکن حالات و واقعات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے عرب احمدی حضرت محمد بن احمد مکی صاحب تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا مفصل ذکر اپنی کتاب ازالہ اوہام میں فرمایا ہے۔اور ازالہ اوہام 1891ء کی تصنیف ہے۔جبکہ حضرت محمد سعید الشامی الطرابلسی صاحب آئینہ کمالات اسلام کے عربی حصہ کو پڑھ کر احمدی ہوئے تھے