مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 412 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 412

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول حضرت مصلح موعود کا پیغام والی اردن شاہ عبداللہ ابن الحسین کے نام اردن مشن کا ایک نہایت اہم واقعہ حضرت مصلح موعود کا والی اردن شاہ عبداللہ ابن قیام 390 احسین کے نام پیغام اور ان سے ملاقات ہے۔اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ مولوی رشید احمد صاحب چغتائی کو اردن میں آنے سے پہلے فلسطین کے دوران 22 نومبر 1947 ء ) شاہ اردن سے مصافحہ کرنے کا موقعہ میسر آیا۔جس کی اطلاع مولوی صاحب موصوف نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں بھی بھجوائی۔نیز لکھا کہ امید ہے کہ میرا یہ مصافحہ مجھے اردن میں پہنچنے اور ان سے دوبارہ ملاقات کا ذریعہ ثابت ہوگا۔حضرت مصلح موعود کے حضور 5 نومبر 1947ء کو یہ رپورٹ پیش ہوئی تو حضور نے ارشاد فرمایا:۔اگر ملک عبد اللہ سے ملیں تو انہیں میرا سلام کہیں اور کہیں کہ میں ان کے والد مرحوم ( یعنی شریف مکہ) سے 1912ء میں مکہ مکرمہ میں حج کے موقعہ پر مل چکا ہوں۔لمبی گفتگو ایک گھنٹہ تک ہوئی تھی۔اس وقت میں نوجوان تھا۔کوئی تیس سال کی عمر تھی۔اسی طرح میرے برادر نسبتی ( حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب مراد ہیں۔ناقل ) ان کے بھائی امیر فیصل کے دوست تھے۔شام میں ان کے تعلقات قائم ہوئے تھے۔بعد میں ان کی بادشاہی کے زمانہ میں عراق میں ان سے ملے اور انہوں نے ان کی دعوت بھی کی۔“ شاہ اردن سے احمدی مبلغ کی ملاقات جناب مولوی رشید احمد صاحب چغتائی نے حضرت مصلح موعود کا یہ پیغام پہنچانے کے لئے 11 ماہ ہجرت 1327 ہش بمطابق 11 مئی 1948ء کو شاہ اردن سے ان کے شاہی محل (قصر رغدان ) میں ملاقات کی۔بادشاہ معظم آپ کے داخل ہونے پر کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اھلا و سهلا و مرحبا کے الفاظ سے خوش آمدید کہا اور مصافحہ کیا جس کے بعد آپ نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے گزشتہ عید الاضحیہ سے دو یوم قبل (22 /اکتوبر 1947ء کو) بادشاہ معظم سے بیت المقدس میں حرم شریف مسجد اقصٰی میں مصافحہ کیا جس کے بعد مولوی صاحب کے دل میں ملاقات کی خواہش پیدا ہوئی اور اس کا اظہار بھی انہوں نے بذریعہ خط