مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 413
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 391 حضرت امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں کیا۔جس پر حضور نے بادشاہ معظم تک اردو میں اپنا ایک پیغام بھجوایا۔مبلغ احمدیت نے ان تعارفی الفاظ کے بعد شاہ اردن کی خدمت میں حضور کے پیغام کا عربی ترجمہ پیش کیا۔شاہ اردن حضور کے پیغام سے بہت متاثر ہوئے اور آپ نے اس کے جواب میں حسہ ذیل الفاظ لکھوائے اور اس پر سرخ روشنائی سے دستخط ثبت فرما دیئے:۔لحضرة إمام الجماعة الأحمدية ميرزا بشير الدين محمود أحمد! قد قرأ على صديقنا الحمل اللطيفة المتعلقة بي وبوالدى المرحوم وبأخى رحمه الله فشكرتكم على تلك الذكرى وأثنيت عليكم ثناء المسلم للمسلم ، جُزيتم خيرا وبورك فيكم وإنا نأمل أن نراكم يوما ما إن شاء الله في أحسن حالة المسلمين أجمعين وإنني هنا سأعمل على مساعدة كل أخ من الهند والباكستان إذا احتاجا إلى تلك المساعدة، والسلام عليكم ورحمة الله ترجمه بحضور حضرت امام جماعت احمدیہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب! آپ کا پیغام ابھی ہمارے دوست ( رشید احمد صاحب احمدی) نے مجھے پڑھ کر سنایا ہے جو آپ کے خوبصورت اور پاکیزہ جملوں پر مشتمل ہے اور جو مجھ سے اور میرے والد مرحوم اور میرے بھائی " سے متعلق ہیں۔میں اس یاد فرمائی پر آپ کا شکر گزار ہوں اور آپ کی تعریف کرتا ہوں جیسا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی تعریف کرتا ہے۔بارگاہِ الہی میں آپ کو جزائے خیر عطا ہونے اور برکتوں کے حصول کے لئے دعا گو ہوں۔ہمیں امید ہے کہ ہم آپ کو کسی وقت تمام مسلمانوں کے لئے ایک عظیم الشان حالت میں پہنچا ہوا دیکھیں گے اور میں یہاں اپنے ہر انڈین و پاکستانی بھائی کی جب بھی ضرورت پڑے مدد کرنے کے لئے تیار ہوں۔والسلام علیکم ورحمۃ اللہ۔شاہ معظم نے یہ عقیدت مندانہ جواب لکھوانے کے بعد مولوی رشید احمد صاحب چغتائی کی ذاتی نوٹ بک پر اپنے قلم سے حسب ذیل عبارت تحریر فرمائی:۔