مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 403 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 403

00000 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 381 عقیدہ کی تخلیق کے کوئی چیز باقی نہیں رہی؟ کیا اس نے ہر واجب علم حاصل کر لیا ہے؟ کیا احکام } الصلوۃ و الصوم کو اس نے معلوم کر لیا؟ اور سمجھ لیا ہے؟ اگر فاضل استاذ جلدی نہ کرتے اور ان سوالوں پر غور کرتے تو وہ حقیقی راز معلوم کر لیتے جس کی وجہ سے یہ امر دریافت کیا گیا تھا اور پھر اس کو درست جواب دیتے لیکن علامہ شلتوت نے ان امور پر غور نہ کیا اور جلدی سے جواب دے کر ایک بہت بڑی مصیبت خرید لی ہے۔الفضل 9 وفا 1325 ہش ، 9 جولائی 1946 ء صفحہ 4 علامہ محمود شلتوت کی طرف سے علماء کو دلیل اور مسکت جواب الغرض الشیخ عبداللہ محمد الصدیق الغماری اور دوسرے مصری علماء نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا کہ علامہ شلتوت فتویٰ وفات مسیح واپس لے لیں مگر علامہ موصوف نے قرآن و حدیث کو چھوڑ کر نام نہاد علماء کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے صاف انکار کر دیا۔اور خم ٹھوک کر میدان مقابلہ میں آگئے اور الرسالة والرواية کی پانچ اشاعتوں میں مخالفین کے چھوٹے بڑے سب اعتراضات کے عالمانہ رنگ اور شستہ اور پاکیزہ زبان میں نہایت درجہ مدلل اور مسکت جوابات دیئے۔جن سے مسئلہ وفات مسیح کے تمام پہلو بالکل نمایاں ہو کر سامنے آگئے۔کتاب الفتاوی میں اشاعت علامہ محمود شلتوت نے ایک عرصہ بعد اپنا یہ مکمل فتویٰ اور اس پر اعتراضات کے جوابات کا شخص اپنی مشہور کتاب الفتاوی میں بھی چھاپ دیا۔اس طرح اس فتویٰ کو مصری حکومت کے مفتی اعظم کے سرکاری فتوی کی حیثیت حاصل ہو گئی۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ 296 تا 313