مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 397
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 375 في بيوت أذن الله أن ترفع نرفع درجات من نشاء ورفعنا لك ذكرك ـ ورفعناه مكان عليا - يرفع الله الذين آمنوا۔(سورة النور: 37) پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد رافعک الی اور بل رفعہ اللہ الیہ میں اسی مطلب کو ظاہر کیا ہے۔جو عربوں کے قول لحق فلان بالرفيق الأعلى اور آيت إن الله معنا نيز عند مليك مقتدر میں داخل ہو جانے کے کچھ اور مراد نہیں ہوتا نہ معلوم لفظ إلیہ سے آسمان کا لفظ کیسے نکال لیا گیا ہے۔یقیناً یہ قرآن کریم کی واضح عبارت پر ظلم ہے اور محض ان روایات اور قصوں کو ماننے کی بناء پر یہ ظلم کیا گیا ہے جن کی یقینی صحت تو کجا ظنی صحت پر بھی کوئی دلیل یا آدھی دلیل بھی قائم نہیں ہوتی۔علاوہ ازیں حضرت عیسی علیہ السلام محض ایک رسول تھے ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔حضرت عیسی کی قوم نے ان سے دشمنی کی اور ان کے متعلق ان کے بُرے ارادے ظاہر ہو گئے۔تب وہ جملہ انبیاء و مرسلین کی سنت کے مطابق ذات باری کی طرف ملتیجی ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے غلبہ و حکمت کے مطابق ان کو دشمنوں کے ہاتھوں سے بچایا اور ان کے منصو بہ کو نا کام کر دیا۔یہ وہ امر ہے جو آیت قرآنیہ فلما أحس عيسى منهم الكفر قال من أنصارى إلى اللہ میں مذکور ہوا ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی تدبیر کی نسبت اپنی تدبیر کے زیادہ مخفی ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔اور یہ کہ انہوں نے حضرت عیسی کے تباہ کرنے کے لئے جو مکر کیا تھا اس خدائی تجویز کے سامنے جو حضرت عیسی کی حفاظت کے لئے تھی ناکام ہو گیا۔فرمایا: إذ قال الله يا عيسى إنى متوفيك و رافعك إلى ومطهرك من الذين کفروا اس میں اللہ تعالیٰ نے مسیح کو بشارت دی ہے کہ وہ دشمنوں کی تدبیر کو نا کام کر دیگا اور مسیح کو ان کے مکر سے بچائے گا۔مسیح کو پوری عمر دے گا یہاں تک کہ مسیح" قتل وسلب کے بغیر طبعی موت سے فوت ہوگا پھر خدا اس کا رفع کریگا۔یہ وہ مفہوم ہے جو ہر پڑھنے والے کو ان آیات سے سمجھ آتا ہے جن میں حضرت عیسی کے انجام کی خبر دی گئی ہے بشرطیکہ وہ پڑھنے والا خدا تعالیٰ کی اس سنت سے واقف ہو جو وہ نبیوں کے ساتھ اختیار کرتا رہا ہے جبکہ انکے دشمن ان پر حملہ آور ہوتے ہیں نیز اس قاری کا ذہن ان روایات سے بھی خالی ہو جو کسی صورت میں قرآن مجید پر حکم نہیں بن سکتیں۔