مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 396 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 396

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 374 ظاہر کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ اکثر شارحین حدیث نے معراج کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نبیوں سے ملنا صرف روحانی قرار دیا ہے اور جسمانی ملاقات کی نفی کی ہے ملاحظہ ہو فتح الباری ، زادالمعاد وغیرہ۔کتنی عجیب بات ہے کہ مفسرین بل رفعه الله إلیہ میں رفع کے معنی حضرت عیسی کے آسمان پر چلے جانے کا استدلال حدیث معراج سے کرتے ہیں جبکہ ان میں سے ہی ایک گروہ حدیث معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عیسی علیہ السلام سے ملاقات کو جسمانی قرار دینے کے لئے آیت بل رفعه الله إلیہ سے سند پکڑتا ہے۔گویا اس طرح جب وہ حدیث کی شرح کرنے لگتے ہیں تو اپنے مفہوم کے لئے آیت کو دلیل گردانتے ہیں اور جب آیت کی تفسیر کرتے ہیں تو اپنے مفہوم کیلئے آیت پر حدیث کو دلیل بنا لیتے ہیں۔ہم جب سورۃ آل عمران كى آيت إنى متوفيك و رافعك إلى كوسورت نساء كى آيت بل رفعہ اللہ الیہ سے ملاتے ہیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ مؤخر الذکر آیت میں پہلی آیت کے وعدہ کے ایفاء کی خبر دی گئی ہے اور یہ وعدہ وفات ، رقع اور کفار کے الزامات سے تطہیر کا تھا۔دوسری آیت (بل رفعه الله إليه ) میں اگر چہ وفات اور تطہیر کا ذکر موجود نہیں ، صرف رفع الی اللہ کا بیان ہے لیکن ضروری ہے کہ اس آیت کی تفسیر کے وقت دونوں آیتوں کو اکٹھا کرنے کے لئے پہلی آیت میں مذکور جملہ امور کو ملحوظ رکھا جائے پس معنی یہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کو وفات دی ان کا رفع فرمایا اور کفار سے انہیں تطہیر بخشی۔علامہ الوتی نے إنى متوفيك كى تفسیر میں متعدد معانی ذکر کئے ہیں جن میں سے زیادہ واضح اور موزوں تر یہ ہیں کہ اے عیسی ! میں تیری مدت حیات کو مکمل کر کے تجھے طبعی موت سے وفات دینے والا ہوں ، تجھ پر ان کو مسلط نہ ہونے دوں گا جو تجھے قتل کر دیں۔یہ دشمنوں سے محفوظ رکھنے اور ان کے منصوبہ قتل سے بچانے کے لئے کنایہ ہے کیونکہ خدا کے پوری عمر دینے اور طبعی عمر سے وفات دینے سے یہی لازم آتا ہے۔ظاہر ہے کہ جو رفع بعد وفات ہوتا ہے وہ مرتبہ کی بزرگی کے معنوں میں ہی ہوتا ہے نہ کہ جسم کا اُٹھانا، بالخصوص جبکہ رافعک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قول ومطهرك من الذين كفروا بھی موجود ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر صرف حضرت مسیح علیہ السلام سے اعزاز و تکریم کا معاملہ مذکور ہے۔لفظ رفع ان معنوں میں قرآن مجید میں بکثرت آیا ہے جیسا کہ آیات ذیل سے ظاہر ہے۔