مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 382 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 382

360 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول میں جمع ہو گئے لوگوں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے حملہ کا خوف تو باہر سے تھا آپ لوگ مسجد میں کیوں آبیٹھے انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں تو یہی جگہ حفاظت کئے جانے کے قابل نظر آتی ہے۔اس لئے یہیں آگئے یہ قربانیاں کرنے والے جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش سے آپ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہوا ہے اور فرمایا ہے کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ یعنی اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا۔مگر باوجود اس وعدہ کے جو قربانیاں انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کیلئے کیس کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کا ایمان کمزور تھا اور وہ خدا تعالیٰ کو اس وعدہ کے پورا کرنے پر قادر نہ سمجھتے تھے؟ یا کیا وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی وعدہ نہیں فرمایا بلکہ نعوذ باللہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے پاس سے بنالیا ہے؟ ان کی قربانیاں اور ان کا اخلاص دونوں بتاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بات بھی ان کے وہم یا خیال میں نہ تھی ان کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عرش سے آپ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ وہ آپ کو بچانے کی طاقت رکھتا ہے اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے سامان مہیا کر سکتا ہے مگر ان کی تمنا ، ان کی آرزو اور ان کی خواہش یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کے لئے جو ہتھیار اپنے ہاتھ میں لے وہ ہم ہوں۔وہ چاہتے تھے کہ کاش وہ ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچانے کا اختیار کرنا ہے وہ ہم بن جائیں اور وہ بن گئے۔اور انہوں نے متواتر دس سال تک اپنی جانوں اور عزیز ترین رشتہ داروں کی جانوں کو قربان کر کے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا ہتھیار ثابت کر دیا۔وہ مہاجر اور وہ انصار اس وعدہ کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گئے جنہوں نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اور پیچھے ہو کر ہر موقعہ پر جنگ کی۔ان کی اول خواہش اور تمنا بھی اور ان کی آخری خواہش اور تمنا بھی یہی تھی کہ کاش وہ فنا ہو جائیں وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آنچ نہ آئے۔یہ وہ قربانیاں تھیں جو باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے وعدہ کے صحابہ نے آپ کی حفاظت کے لئے کیں۔پس اس میں شبہ نہیں کہ مکہ اور مدینہ کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں مگر اللہ تعالیٰ حفاظت کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں اتارا کرتا۔بلکہ بعض بندوں کو ہی فرشتے بنا دیتا ہے۔اور ان کے دلوں میں اخلاص پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے ہتھیار بن جائیں۔وہ گو انسان نظر آتے ہیں مگر ان کی روحوں کو فرشتہ کر دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ