مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 378 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 378

356 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول میں جرمنی اور اٹلی کی فوجیں کسی بڑی تعداد میں داخل نہیں ہوئیں۔اگر خدانخواستہ بڑی تعداد میں فوجیں یہاں داخل ہو گئیں تو یہ کام آسان نہ رہے گا۔جنگ کی آگ سرعت کے ساتھ عرب کے صحرا میں پھیل جائے گی۔اس فتنہ کا مقابلہ شیخ رشید عالی صاحب یا مفتی یوروشلم کو گالیاں دینے سے نہیں کیا سکتا۔انہیں غدار کہہ کر ہم اس آگ کو نہیں بجھا سکتے۔میں شیخ رشید صاحب کو نہیں جانتا لیکن مفتی صاحب کا ذاتی طور پر واقف ہوں۔میرے نزدیک وہ نیک نیت آدمی ہیں۔اور انکی مخالفت کی یہ وجہ نہیں کہ ان کو جرمنی والوں نے خرید لیا ہے بلکہ انکی مخالفت کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ عظیم میں جو وعدے اتحادیوں نے عربوں سے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے۔ان لوگوں کو برا کہنے سے صرف یہ نتیجہ نکلے گا کہ انکے واقف کار دوست اشتعال میں آجائیں گے۔پس ان ہزاروں لاکھوں لوگوں کو جو عالم اسلامی میں شیخ رشید اور مفتی یوروشلم سے حسن ظنی رکھتے ہیں ٹھو کر اور ابتلاء سے بچانے کے لئے ہمارا فرض ہے کہ اس نازک موقعہ پر اپنی طبائع کو جوش میں نہ آنے دیں اور جو بات کہیں اس میں صرف اصلاح کا پہلو مدنظر ہو، اظہار غضب مقصود نہ ہوتا کہ فتنہ کم ہو بڑھے نہیں۔یادر ہے کہ اس فتنہ کے بارہ میں اس قدر سمجھ لینا کافی ہے کہ شیخ رشید عالی صاحب اور انکے رفقاء کا یہ فعل اسلامی ملکوں اور اسلامی مقدس مقامات کے امن کو خطرہ میں ڈالنے کا موجب ہوا ہے۔ہمیں انکی نیتوں پر حملہ کرنے کا نہ حق ہے اور نہ اس سے کچھ فائدہ ہے۔اس وقت تو مسلمانوں کو اپنی ساری طاقت اس بات کے لئے خرچ کر دینی چاہئے کہ عراق میں پھر امن ہو جائے۔اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ مسلمان جان اور مال سے انگریزوں کی مدد کریں اور اس فتنہ کے پھیلنے اور بڑھنے سے پہلے ہی اسکے دبانے میں انکا ہاتھ بٹائیں۔تا کہ جنگ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سے دور رہے اور ترکی ایران عراق اور شام اور فلسطین اس خطر ناک آگ کی لپٹوں سے محفوظ رہیں۔یہ وقت بحثوں کا نہیں کام کا ہے۔اس وقت ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے ہمسائیوں کو اس خطرہ سے آگاہ کرے جو عالم اسلام کو پیش آنے والا ہے تا کہ ہر مسلمان اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔اور جو قربانی بھی اس سے ممکن ہوا سے پیش کر دے۔۔۔۔شاید شیخ رشید عالی جیلانی کا خیال ہو کہ سابق عالمگیر جنگ میں عربوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ایک متحد عرب حکومت کے قیام میں انکی مدد کی جائے گی۔مگر ہوا یہ کہ عرب جو پہلے ترکوں کے ماتحت کم سے کم ایک قوم تھے اب