مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 370 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 370

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 348 گاؤں اس وقت سونے کی کانوں کی وجہ سے تجارت کا مرکز تھا۔جب سید حسن صاحب کو الحاج مولا نا علی مرحوم کی آمد کا علم ہوا تو انہوں نے فورا مولانا مرحوم کو دباؤ کا ہوں آنے کی دعوت دی جس پر مولانا مرحوم وہاں تشریف لے گئے اور ان کی تبلیغ سے نہ صرف حسن صاحب نے احمدیت قبول کر لی بلکہ کثیر تعداد میں افریقن لوگ بھی بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہو گئے۔قبول احمدیت کے بعد سید حسن مرحوم کی ان کے ہم وطن لبنانی تاجروں کی طرف سے شدید مخالف شروع ہوگئی مگر آپ کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی بلکہ آپ ایمان کی مضبوطی اور اخلاص و قربانی میں ترقی کرتے چلے گئے اور اپنے لبنانی ہموطنوں اور دیگر عرب تاجروں میں شب وروز تبلیغ کرنے لگے جس کے نتیجہ میں خدا کے فضل سے آپ دو اور لبنانی خاندانوں کو احمدیت کی آغوش میں لانے میں کامیاب ہو گئے۔یعنی سید امین خلیل سکیکی مرحوم اور سید محمد حدرج صاحب کے خاندان۔مکرم سید محمد حدرج اور انکی اولا د خدا تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت احمدیہ سیرالیون کے خاص اور فدائی ممبران میں شمار ہوتے ہیں۔مبلغین کرام سے ان کا تعاون اور محبت اور مرکز سے ان کی عقیدت دیکھ کر طبیعت باغ باغ ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں اور انکی اولا دکو صحت و سلامتی سے رکھے اور اخلاص میں ترقی دے۔آمین۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کی مدح میں عربی قصیدہ سید حسن ابراہیم مرحوم جب تک زندہ رہے نظام سلسلہ کی پابندی، خلیفہ وقت کی اطاعت اور مبلغین کرام سے تعاون اور ان کی خدمت کرنے کو اپنا فرض سمجھتے رہے۔خلیفہ وقت کی زیارت کے لئے مرکز سلسلہ میں آرنے کے لئے بے تاب رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں سنیں اور سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ 1970 میں مغربی افریقہ کے دورہ پر تشریف لے گئے اس موقعہ پر سید حسن صاحب نے حضور کی مدح میں ایک عربی قصیدہ کہا اور حضور کی موجود میں خود اجلاس عام میں پڑھ کر سنایا۔قصیدہ پڑھتے وقت ان پر ایسی رقت کی کیفیت طاری تھی کہ گویا وہ عشق و محبت کی کوئی واردات بیان کر رہے ہیں۔جنوری 1971 میں وہ کچھ عرصہ کے لئے لبنان چلے گئے کیونکہ انکے تین بچے وہاں زیر تعلیم تھے۔لبنان سے وہ ربوہ (پاکستان) جانے کا ارادہ رکھتے تھے تا کہ اپنی بقیہ زندگی وقف کر کے اپنے آپ کو حضور کی خدمت میں پیش کر دیں مگر زندگی نے وفا نہ کی اور آپ لبنان میں اپنے