مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 368
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 346 سے نکالنے پر قادر ہونا اور جملہ مشکلات کا واحد کارآمد حل ہونا ثابت کیا۔بعد میں جب یہ عظیم الشان خطاب انگریزی میں ترجمہ ہو کر دنیا میں نشر ہوا تو اس کی ایک کاپی مصر کے مشہور و معروف ادیب عباس محمود عقاد تک بھی پہنچی جسے پڑھ کر انہوں نے اس پر ریویو لکھا جس میں کتاب کے خلاصہ کے علاوہ مؤلف کے تبحر علمی کا بھی اعتراف کیا۔واضح رہے کہ عباس محمود عقا دسو سے زیادہ کتابوں کے مؤلف ، قادر الکلام شاعر ادیب اور عربی ادب کے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔یہاں پر ان کے ریویو میں سے ایک اقتباس بطور نمونہ پیش ہے، لکھتے ہیں: مطالعة هذا الخطاب أن صاحبه يوجه النظام العالمي إلى حل مشكلة الفقر أو مشكلة الثروة وتوزيعها بين أمم العالم وأفراده وأنه بغير شك على اطلاع واف محيط بالأنظمة الحديثة التي عولجت بها هذه المشكلة يبدو من (مجلة "الرسالة" شمارہ 699 تاریخ اول محرم 1366ھ ) یعنی اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مؤلف عالمی نظام کو غربت کے مسئلہ کے حل کی طرف راہنمائی کرتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ مؤلف دولت کی اقوام عالم کے مابین تقسیم کے مسئلہ کا حل پیش کرتا ہے اور اس بات میں کچھ شک نہیں ہے کہ مؤلف ان تمام نئے نظاموں سے بخوبی واقفیت رکھتا ہے جن کے ذریعہ اس مشکل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی ہے۔