مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 363 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 363

343 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول که بعض احباب دریافت کرتے تھے کہ کیا آپ سچ مچ ہمیں اس دنیا میں مل گئے ہیں یا ہم کی عالم خواب میں ہیں ؟ چند دوستوں نے لبنان میں اور چند احباب نے شام میں بھی کہا کہ ہم مرکز کو تار دیتے ہیں کہ آپ یہاں ہمارے ملک میں ہی ٹھہریں۔آپ کا افریقہ سے کیا کام؟ میں نے کہا یہ غلطی ہرگز نہ کریں اور مجھے نادانستہ نقصان نہ پہنچا ئیں۔سب برکتیں اطاعت میں ہیں اور ہماری جماعت کی کامیابی کا راز اطاعت میں ہے۔جہاں اللہ تعالیٰ کی مشیت لے جائے وہی ہمارا اصل مقام ہے اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ انہوں نے اس نکتہ کو فوراً سمجھ لیا اور مجھے ان کے ساتھ زیادہ سر در دی نہ کرنی پڑی۔(الفضل 25 جولائی 1983 صفحہ 3) دو مبلغین کی آمد مولا نا محمد شریف صاحب کے بلاد عر بیہ میں قیام کے دوران دو مبلغین کرام مکرم شیخ نوراحمد صاحب منیر اور مکرم مولوی رشید احمد صاحب چغتائی بلاد عربیہ میں تشریف لائے۔جنہوں نے مولانامحمد شریف صاحب کے ساتھ مل کر اور آپ کے زیر نگرانی مختلف بلا دعر بیہ میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔جناب شیخ نور احمد صاحب منیر 3/ ذوالحجہ 1346ھ کو حیفا پہنچے جبکہ مکرم مولوی رشید احمد چغتائی صاحب 28 محرم 1368ھ کو حیفا تشریف لائے۔مکرم شیخ نور احمد منیر صاحب چند ماہ فلسطین میں فریضہ تبلیغ ادا کرنے کے بعد 17 ستمبر 1946ء کو شام میں آگئے اور جماعت احمد یہ شام کو بیدار کرنے کے علاوہ اس ملک کے اونچے طبقہ تک پیغام احمدیت پہنچایا اور ملکی پریس کے ذریعہ عوامی حلقوں کو بھی جماعت احمدیہ کی سرگرمیوں سے روشناس کرایا۔پھر آپ ہی کے قیام شام کے دوران فلسطینی احمدی نہایت بے سروسامانی کی حالت میں دمشق میں پناہ گزیں ہوئے جن کی آباد کاری کا انتظام بھی آپ نے اور مکرم منیر اکھنی صاحب کے ساتھ مل کر کیا۔اس سلسہ میں جماعت احمد یہ دمشق نے بہت اخلاص اور ہمدردی کا نمونہ دکھایا اور احمدی مہاجرین کی خصوصا اور دوسرے مہاجرین کی عموما ہر ممکن امداد کی۔آپ گرانقدر خدمات کے بعد 17 / دسمبر 1949ء کو مرکز میں واپس آگئے۔مولوی رشید احمد صاحب چغتائی کے فلسطین میں پہنچنے کے ایک سال بعد چونکہ فلسطین کی