مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 355 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 355

335 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول و عبرانی زبانوں میں تبلیغی لٹریچر تقسیم کیا کرتے تھے۔ایک دن دو احمدی نوجوان تبلیغ کی غرض سے بہائیوں کے شہر علہ میں گئے جن میں سے ایک کا نام کامل عودہ تھا۔لیکن وہاں جا کر یہ دونوں جدا ہو گئے۔چنانچہ کامل عودہ صاحب کو مخالفین نے گھیر لیا اور مار مار کر لہولہان کر دیا۔قریب تھا کہ وہ انہیں شہید کر دیتے۔لیکن انہوں نے ایک دکان میں پناہ لی اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔لوگ دروازہ توڑ کر اندر گھنے کی کوشش میں تھے کہ وہاں پولیس آگئی جس نے لوگوں کو منتشر کیا۔آپ کو سوال کی اجازت نہیں ہے! ایک دفعہ دو احمدی نوجوان حیفا میں پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے گرجے میں گئے۔جہاں پادری لیکچر دے رہا تھا۔لیکچر کے اختتام پر پادری نے کہا کہ اگر حاضرین میں سے کسی نے کوئی سوال پوچھنا ہو تو پوچھ سکتا ہے۔اس پر ان دو احمدیوں میں سے ایک نے کھڑے ہو کر کوئی سوال پوچھا جس سے پادری کو پتہ چل گیا کہ یہ احمدی ہے۔چنانچہ سوال کا جواب دینے کی بجائے اسے کہا: آپ کو سوال پوچھنے کی اجازت نہیں ہے۔احمدی نے کہا کہ آپ نے حاضرین کو سوال پوچھنے کی دعوت دی ہے اور میں حاضرین میں سے ہوں۔قصہ مختصر یہ کہ پادری نے سوالات سے عاجز آ کر گرجے کی روشنیاں بجھا کر سب کو اس سے نکل جانے کا کہا اور خود بھی چلتا بنا۔واہ رے جوش جہالت۔۔۔ایک دفعہ دو آدمی جماعت میں داخل ہوئے۔ایک کا نام حمدی مقصود اور دوسرے کا نام فوزی تھا۔حمدی مقصود تعلیم یافتہ شاعر اور ادیب نوجوان تھا جبکہ فوزی احمدی ہونے سے قبل بے نماز اور شرابی تھا۔جب احمدی ہوا تو اس کے محلہ کے مولوی اس کے پیچھے پڑ گئے۔فوزی نے انہیں کہا کہ جب میں بے نماز تھا اور شراب پیتا تھا تب تو آپ کو مجھ سے کوئی گلہ نہ تھا نہ میری زندگی پر کوئی اعتراض۔اب جبکہ میں نے وہ سب کچھ چھوڑ دیا ہے تو تم میرے پیچھے پڑ گئے ہو۔اس پر احمدیت کی اندھا دھند مخالفت کرنے والے ان مولویوں نے جواب دیا کہ قادیانی ہونے سے تو بہتر ہے کہ تم اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ آؤ۔چنانچہ یہ بد نصیب احمدیت چھوڑ کر اپنی پہلی ڈگر پر واپس آ گیا، جبکہ حمدی مقصود صاحب قائم رہے اور آپ کے بعض