مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 353
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 333 دو کرنے کے لئے جامعہ ازہر میں داخل ہوئے۔از ہر والوں کو علم ہو گیا کہ یہ قادیانی ہیں۔جس پر ان کو ازہر سے خاص طور پر نکال دیا گیا اور شیخ الازہر نے بعض مشہور متعصب علماء کی ایک تحقیقاتی کمیٹی مقرر کی کہ احمدیت کا پورے طور پر مطالعہ کر کے رپورٹ کرے کہ کیا یہ طالب علم از ہر میں جو سنیوں کی ایک پرانی طرز کی دینی درسگاہ ہے تعلیم پا سکتے ہیں یا نہیں۔جس پر اخباروں نے یہ خبریں بڑے بڑے عنوانوں سے شائع کیں۔اخبار الفتح ( قاہرہ ) نے بھی جو ہمارا ایک پرانا دشمن ہے اس موقعہ کو غنیمت سمجھا اور علماء ہندوستان کے بوسیدہ فتاویٰ تکفیر ایک د مرتدوں کی مدد سے شائع کرنے شروع کئے۔ہماری طرف سے بھی ان کے جواب مصر کے اخباروں میں شائع کئے گئے۔اور البشریٰ میں بھی ان کا جواب دیا گیا۔بذریعہ ڈاک بھی خاکسار نے شیخ الازہر اور اس کمیٹی کو رجسٹر ڈ خطوط ارسال کئے۔مگر ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔اکتوبر میں کمیٹی کی رپورٹ نے شائع ہونا تھا۔مگر اب تک ان کی طرف سے کوئی رپورٹ شائع نہیں ہوئی۔البتہ البشریٰ کے مضمون کے نتیجہ میں "کلیة دار العلوم، مصر کے امتحانوں میں شریک ہونے کے لئے سب طلباء کو اجازت مل گئی۔خواہ وہ کسی سالانہ رپورٹ صدر انجمن 40-1939ء) ملک وملت کے ہوں۔دمشق میں تبلیغ احمدیت دمشق میں تبلیغ کے متعلق چوہدری محمد شریف صاحب فرماتے ہیں:۔دمشق میں بحیثیت جماعت کوئی نظام نہیں۔ایک تو وہاں کی سیاسی حالت بہت خراب ہے۔دوسرے ملکی قانون نہایت سخت ہیں۔تیسرے علماء کی مخالفت بھی نہایت شدو مد سے ہے۔پھر کوئی خاص مکان بھی جماعت کے اجتماعات کے لئے نہیں مل سکا۔مگر تا ہم منیر آفندی اکھنی اور دوسرے احمدی احباب انفرادی طور پر کام کر رہے ہیں۔کچھ نئے احمدی بھی اس سال وہاں ہوئے ہیں اور ماہوار چندے بھی ادا کر رہے ہیں۔تحریک جدید میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ہفتہ وار درس بھی ہوتا ہے۔گزشته ماه فروری میں وہاں کے ایک بہت بڑے بارسوخ عالم نے جو تصوف کا دم بھی بھر تا ہے ہمارے ساتھ مباہلہ و مناظرہ کرنا چاہا۔جب ہماری طرف سے اس کی منظوری اور شرائط و طے کرنے کا پیغام پہنچایا گیا۔تو سنا ہے کہ) اس کو بعض منذر خوا ہیں آئیں۔اور دوسرے