مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 352
332 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ہیں کہ کہا جا سکتا ہے کہ وہاں پبلک طور پر تبلیغ کرنے کی اجازت ہی نہیں اور اس لئے تبلیغ کا کام انفرادی ملاقاتوں اور پرائیویٹ اجتماعات تک ہی محدود ہے۔چنانچہ تربیت جماعت کے ساتھ مکرم مولوی محمد شریف صاحب نے اسی واحد ذریعہ تبلیغ سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے آپ کی مساعی کو بار آور فرمایا اور چار ا حباب داخلِ سلسلہ ہوئے۔(ماخوذ از الفضل 19 / دسمبر 1944 ء صفحہ 5 نبی آسکتا ہے! دورانِ قیام مصر میں ایک بلند پایہ از ہری اور حجازی شیخ سے مکرم مولوی صاحب کا ایک پرائیویٹ مناظرہ بھی ہوا جس میں بعض احمدی احباب کے علاوہ چند ایک غیر احمدی بھی موجود تھے۔شیخ صاحب نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ احمد یہ جماعت اور دوسرے اسلامی فرقوں میں بنیادی اختلاف کسی امر میں ہے۔مولوی صاحب نے جواب دیا کہ مسئلہ وفات مسیح میں۔مگر شیخ صاحب نے کہا کہ نہیں بنیادی اختلاف مسئلہ ختم نبوت میں ہے۔مکرم مولوی صاحب نے اسی مسئلہ پر ان سے تبادلہ خیال شروع کیا۔اور اپنے عقیدہ کی تائید میں قرآن مجید سے دس آیات پیش کیں۔شیخ صاحب نے ان میں سے صرف ایک آیت ﴿إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ منكُمْ (الاعراف : 36) پر جرح کی اور چار گھنٹہ تک اسی پر بحث ہوتی رہی جس میں شیخ صاحب ایسے عاجز آگئے کہ کھلے الفاظ میں اعتراف کر لیا بلکہ لکھ دیا کہ عقلی طور پر اس آیت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ بھی نبی آسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی تائید کا مظاہرہ احباب جماعت کے لئے بہت ایمان افروز تھا۔اس کے بعد شیخ صاحب ایک بہانہ تلاش کر کے تشریف لے گئے۔ملخص از الفضل 19 / دسمبر 1944 ، صفحہ 5) قاہرہ میں تبلیغ احمدیت مکرم چوہدری محمد شریف صاحب اپنی ایک رپورٹ میں قاہرہ میں تبلیغ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:۔وو سال رواں میں قاہرہ میں احمدیت کے خلاف بڑے زور وشور سے اخباروں میں پراپیگنڈہ ہوا۔جس کی وجہ یہ تھی کہ لاہور سے دو البانوی ( پیغامی ) طالب علم عربی کی تعلیم حاصل