مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 351
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 331 ملا۔ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے غلاموں کو مسیح ناصری کی بستی میں یہ عزت عطا فرمائی۔الحمد للہ۔ہیں:۔تشحید الا ذہان جنوری 1978 ء صفحہ 10) تائید خداوندی کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے چوہدری محمد شریف صاحب فرماتے ” جب فلسطین میں یہودی حکومت قائم ہوئی تو فلسطین ساری دنیا سے منقطع ہو گیا۔اور تمام رابطے ٹوٹ گئے۔ہمیں مرکز سلسلہ سے کوئی پیسہ نہیں آ سکتا تھا۔انہی دنوں میں ایک دفعہ مغرب کے بعد کسی خاص کام کے لئے جا رہا تھا کہ ایک بزرگ احمدی دوست نے میرے ہاتھ میں ساڑھے سات پونڈ تھما دئے۔میں نے پوچھا کہ یہ کس لئے ؟ تو کہنے لگے آپ کے لئے ہیں۔میں نے کہا اگر یہ زکوۃ، چندہ عام، تحریک جدید وغیرہ کے ہیں تو میں لے لیتا ہوں ورنہ نہیں۔اس پر وہ کہنے لگے کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ کو روپیہ کی ضرورت ہے۔اور اگر میں آپ کی مدد نہیں کروں گا تو اللہ تعالیٰ میرے بچوں پر ابتلاء لائے گا۔تو میں نے انہیں جمع کیا اور یہ خواب بتائی تو انہوں نے یہ رقم دی ہے۔اس لئے یہ میں آپ کے پاس لایا ہوں۔اس بزرگ کا نام الحاج احمد عبد القادر تھا اور وہ گزشتہ سال ہی فوت ہوئے ہیں“۔(تلمیذ الاذہان جنوری 1978 ، صفحہ 11) تبلیغی دورے مکرم مولانا محمد شریف صاحب نے مختلف تبلیغی دورے بھی کئے اور حتی الوسع پیغام حق پہنچانے کی پوری کوشش کی۔اس سلسلہ میں آپ نے مصر کا سفر اختیار کیا اور اس طرح احباب مصر کی ایک دیرینہ خواہش کو پورا فرمایا اور اس زمانہ میں نقل وحرکت پر جو پابندیاں تھیں۔ان کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو مصر جانے کا موقع بہم پہنچایا۔چنانچہ آپ وہاں گئے اور ماہ فروری 1944ء کا معتد بہ حصہ اور سارا مارچ وہیں گزرا۔وہاں پہنچ کر آپ نے سب سے پہلے گزشتہ دو سال کے مالی حسابات کی پڑتال کی۔اور عہدیداران جماعت کا نیا انتخاب کروا کر احباب جماعت میں کام کرنے کی نئی روح پیدا کی۔آپ کی تربیت و تلقین کا یہ اثر ہوا کہ احباب مصر نے نہایت تندہی اور توجہ کے ساتھ تبلیغ سلسلہ کا کام شروع کر دیا۔مصر کے حالات کا مطالعہ کرنے والے لوگ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اس ملک میں تبلیغ پر ایسی شدید پابندیاں