مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 349
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 329 کہ مغرب سے قبل ہمیں 500 پونڈ بھجوا دیں ورنہ ہم آپ کے آدمیوں کو اغوا کرلیں گے۔جب کی انہیں مطلوبہ رقم نہ ملی تو انہوں نے احمد یہ مشن کا محاصرہ کر لیا اور دس احمدیوں کو پکڑ کر لے گئے۔میں ان کے اندر پھرتا رہا۔لیکن خدا کی قدرت کہ وہ مجھے پہچان نہ سکے اور دھکا دے کر دور ہٹا ( تشخیذ الاذہان جنوری 1978ء) دیا۔ہیں:۔اسی طرح ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے مکرم چوہدری محمد شریف صاحب بیان فرماتے اسی طرح ایک دفعہ میں بینک میں گیا تو وہاں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ایک آدمی مجھے قتل کرنے کے لئے میرا نشانہ لے رہا تھا (جس کا مجھے بعد میں پتہ چلا کہ ایک کاراچانک میرے اور اس کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ آدمی بھاگ گیا۔اس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے بچالیا۔تشخید الا ذہان جنوری 1978 ء صفحہ 10) ایسے ہی ایک واقعہ کا ذکر مکرم طا قزق صاحب نے اپنی غیر مطبوعہ یادوں میں یوں بیان کیا ہے:۔م فلسطین کے ایام میں کسی کو قتل کردینا بڑی عام سی بات بن گئی تھی اور بدامنی اور لا قانونیت کی وجہ سے روزانہ کئی اشخاص کے نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل کی خبریں معمول بن کے رہ گئی تھیں۔ایسی صورت میں احمدیوں کا اور خصوصاً مولا نا محمد شریف صاحب کا قتل بہت ہی معمولی اور آسان کام تھا جس کے لئے مخالفین کوشاں تھے۔حتی کہ ایک احمدی مکرم احمد المصری صاحب کو شہید کر دیا گیا، اسی طرح مکرم رشدی بسطی صاحب صدر جماعت حیفا پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انہیں گردن پر گولی لگی لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے بچا لیا۔اسی طرح مولانا محمد شریف صاحب کے ہمسائے میں رہنے والے احمدی دوست مکرم محمد صالح عودہ صاحب پر دو قاتلانہ حملے ہوئے۔اسی دوران مکرم مولا نا محمد شریف صاحب کے قتل کا منصوبہ بھی کیا گیا جو نا کام ہو گیا۔میں مولانا محمد شریف کے ساتھ ساتھ رہتا تھا۔ایک دن میں بازار میں مولانا صاحب کے ساتھ تھا۔جب واپس گھر آیا تو مجھے بتایا گیا کہ بعض مجرم پیشہ لوگ مولا نا محمد شریف صاحب کے قتل کا منصوبہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے لیکن جب مجھے ان کے ساتھ دیکھا تو اپنے منصوبہ کی تکمیل نہ کر سکے۔بعد میں انہوں نے ہمارے خاندان میں یہ پیغام بھیجا کہ میں مولا نا صاحب سے دور ہی رہوں۔لیکن چونکہ ہمارا خاصا اثر ورسوخ تھا اور ہمارے خاندان