مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 343 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 343

323 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول حصے ہیں۔لڑکوں کے لئے اور لڑکیوں کے لئے۔جن میں پرائمری تک تعلیم دی جاتی ہے۔اس سال سات طلباء فارغ کئے گئے۔مدرسہ کی مالی حالت بالکل خراب ہے تعلیم پانے والے اکثر بچے احمدی ہی ہیں۔اور ملک میں عام بریکاری کی وجہ سے فیس قریباً کا لعدوم ہے۔حکومت نے اس سال گرانٹ نہ دینے کے متعلق لکھا ہے کہ بوجہ خرابی مالی حالت گورنمنٹ اس سال معذوری نان کا اظہار کرتی ہے۔( اول سال رواں میں بھی صرف ساڑھے چار پونڈ گرانٹ بھیجی حالانکہ آٹھ کا وعدہ تھا) مدرسہ ہذا میں 1937ء میں تین استاد کام کرتے تھے۔گذشتہ سال مبلغ کے یہاں سے چلے جانے کی وجہ سے دورہ گئے۔پھر وہ دونوں بھی بعض وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دے کر (میرے آنے سے قبل ) ہی چلے گئے اور مکرم منیر احصنی صاحب ہی دو تین ماہ تک تعلیم دیتے رہے۔اب جنوری میں وہ بھی چلے گئے۔اس لئے اس وقت سے اب مجھے ہی روزانہ 7 گھنٹے متواتر وقت مدرسہ میں صرف کرنا پڑتا ہے۔پھر البشری کی ایڈیٹری اور مینیجری اور کلر کی وغیرہ سب ہی کام آمدہ خطوط کے جوابات۔آنے والے احمدیوں اور غیر احمدیوں سے ملاقات اور پھر بیوی ساتھ ہونے کی وجہ سے گھر کا بھی انتظام کرنا وغیرہ اس قدر کام ہیں۔کہ اگر اللہ اپنے فضل سے ہی مددفرماتا چلا جائے تو یہ کام ہو سکتے ہیں۔وهو نعم المولى ونعم النصیر۔(سالانہ رپورٹ صدر انجمن 39-1938ء) نو مبایعین کے بارہ میں بعض رپورٹس مولا نا چوہدری محمد شریف صاحب کی تبلیغ نے بہت پھل دیا اور کئی سعید روحیں جماعت احمدیہ میں داخل ہوئیں۔نمونہ کے طور پر نو مبایعین کے تذکرہ پر مبنی چند ر پورٹس پیش ہیں جن سے اس عرصہ میں بلا دعر بیہ میں احمدیت کی روز افزوں ترقی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔چوہدری محمد شریف صاحب بیعت کندگان کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:۔سال ہذا میں بفضلہ تعالیٰ 19 اشخاص بیعت کر کے داخلِ سلسلہ ہوئے۔اور یہ بلاد عربیہ کے مختلف اقطار مثلاً فلسطین، سوریا، شام، عراق۔قاہرہ اور سوڈان کے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ان سب کو استقامت عطا فرمائے۔زیادہ حصہ تاجروں کا ہے۔اور بعض تو قابل رشک مخلص ہیں چنانچہ ایک دوست محمد ندیم انصاری ہیں۔نوجوان ادیب اور دین کے ساتھ گہری محبت رکھنے والے ہیں۔حال ہی میں جب تحریک جدید کے لئے تحریک کی گئی تو سب سے پہلے