مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 324 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 324

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل 306 زبان ہونے کے دعوے کے بعد انہوں نے اس بارہ میں کیا لکھا: آیت کریمہ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ( آل عمران : 56 ) کی تفسیر میں محض دوسطروں میں ان لوگوں کی رائے درج کی جو اس آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ اس آیت کا معنی اس کے الفاظ کی موجودہ ترتیب کے لحاظ سے نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ رفع پہلے ہے اور توفی بعد میں۔اس کے بعد لکھتے ہیں کہ دوسری رائے یہ ہے: " أن الآية على ظاهرها وأن التوفى هو الإماتة العادية، وأن الرفع بعده للروح، ولا غرابة فى خطاب الشخص وإرادة روحه، حقيقة الإنسان، والجسد كالثوب هی فالروح المستعار۔۔۔۔۔۔۔۔والمعنى إنى مميتك وجاعلك بعد الموت في مكان رفيع عندى، كما قال في إدريس عليه السلام ورفعناه مكانا عليا“۔یعنی دوسری رائے یہ ہے کہ اس آیت کو اس کی موجودہ ظاہری ترتیب کے اعتبار سے ہی سمجھنا چاہئے لہذا اس میں وارد لفظ تو فی کا مراد طبعی موت ہے اور طبعی موت کے بعد جو رفع ہوتا ہے وہ روح کا ہوتا ہے۔اور اس میں کوئی اچنبھے والی بات نہیں ہے کہ کسی شخص کو مخاطب کر کے کچھ کہا جائے جبکہ مراد اس کی روح ہو، کیونکہ انسان کی اصل حقیقت تو اس کی روح ہی ہے جبکہ جسم کی حقیقت ایک مستعار لئے ہوئے کپڑے سے زیادہ نہیں ہے۔چنانچہ آیت کا مطلب یوں ہوگا کہ: میں تجھے موت دوں گا اور موت کے بعد تجھے اپنے حضور ایک بلند مرتبت مقام پر فائز کروں گا۔انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کے بارہ میں فرمایا: ورَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا“۔"وحديث الرفع والنزول آخر الزمان حديث آحاد يتعلق بأمر اعتقادي ، والأمور الاعتقادية لا يؤخذ فيها إلا بالدليل القاطع من قرآن وحديث متواتر، ولا يوجد هنا واحد منهما وأن المراد بنزوله وحكمه فى الأرض غلبة روحه وسرّ رسالته على الناس بالأخذ بمقاصد الشريعة دون الوقوف عند ظواهرها والتمسك بقشورها دون لبابها ذاك أن المسيح عليه السلام