مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 323 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 323

305 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول علم زیادہ ہوگا اور عقل تیز ہوگی تو چونکہ یہ سب چیزیں ان کو اب بھی حاصل ہیں۔اس لئے وہ ای مجھے جواب دے سکتے ہیں کہ جن چیزوں کی خاطر تم ہمیں اسلام کی دعوت دیتے ہو وہ ہمارے پاس پہلے سے ہی موجود ہیں۔ہمیں ان کی ضرورت نہیں۔لہذا اگر میں جاپان و چین میں جا کر تبلیغ کروں تو کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔بلکہ وہ بالعکس کہہ سکتے ہیں اگر اسلام امتوں کو آزاد کرا تاج ہے اور ترقی و علم و برتری عطا کرتا ہے تو کیوں تم مسلمان اس طرح ذلیل حالت میں ہوتے۔اس کے بعد کہنے لگے : یہی جواب ہمارا آج ہے۔اگر ہم یورپ میں جا کر تبلیغ کریں تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں سب کچھ بجد اللہ بغیر اسلام حاصل ہے ہمیں اسلام کی ضرورت نہیں ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے جوا با فرمایا: اسلام کا مقصد صرف یہ عارضی ترقی نہیں بلکہ اسلام تو ابدی زندگی پیش کرتا ہے جو دنیا میں بھی ابدی ہے اور عالم ثانی میں بھی ابدی۔جن ترقیات روحانی کو اسلام پیش کرتا ہے یہ دنیاوی معمولی ترقیات ان کے عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔پھر نہایت واضح صورت میں اسلامی انعامات بیان کرنے کے بعد فرمایا: اگر آپ کا یہ نظریہ تسلیم بھی کر لیا جائے تو اسلامی تاریخ اس سے موافقت نہیں کرتی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں بھی مثلاً روم اور عجم کی قومیں بہت ترقی یافتہ اور مستقل آزاد حکومتیں تھیں پھر ان کو کیوں صحابہ کرام نے اسلام کا پیغام پہنچایا ؟ اس ملاقات کا ذکر مصر کے تقریبا تمام بڑے بڑے روز ناموں نے کیا۔سچ کی جیت الفضل 7 اکتوبر 1938 ء ص 5-6 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 493 تا 495) حق بالآ خر غالب آ کر رہتا ہے اور باطل کے خواہ کتنے ہی کثیف بادل کیوں نہ ہوں سچائی کا سورج طلوع ہو کے ہی رہتا ہے۔یہی شیخ الازہر مصطفیٰ المراغی تھے جنہوں نے 1938ء میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو کہا تھا کہ : ”آپ عجمی ہیں اور ہم صواحب لغۃ القرآن ہیں۔قرآن ہماری زبان میں اترا ہے اس لئے ہم اس کے معنے بہتر سمجھتے ہیں۔“ پھر یہی مصطفیٰ المرافی تھے، جو 1945ء تک شیخ الازہر رہے ،اور 1945ء میں ہی انہوں نے تمہیں جلدوں پر مشتمل ایک تفسیر تفسیر المراغی شائع کی۔جس میں انہیں وفات مسیح کا قائل ہونا پڑا اور لفظ توفی کے وہ معنے کئے جو جماعت احمدیہ کرتی ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ اہل