مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 322 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 322

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 304 دورہ کیا۔اس دورہ کے دوران انکے ساتھ مکرم منیر اکھنی صاحب بھی تھے ، وہاں جامعہ ازہر کے علوم ریاضیات کے انچارج الاستاذ خالد بک حسنین نے ان سے ملاقات کی اور جامعہ الازہر کی عالم اسلامی میں اہمیت پر روشنی ڈالی۔بعد میں انہوں نے جامعہ الازہر میں رائج تعلیمی نظام اور ا سکے خدوخال کے بارہ میں بھی بتایا۔شیخ الازہر پر اتمام حجت ( بحوالہ البشرکی اگست ستمبر 1938 ءصفحہ 60) صاحبزادگان نے اقامت مصر کے دوران جماعت احمدیہ کی تربیت اور زیر تبلیغ دوستوں تک پیغام حق پہنچانے کے علاوہ بعض مشہور مصری علماء سے بھی ملاقاتیں کیں۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے شیخ الازہر مصطفیٰ المراغی سے ملاقات کی اور ان کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی بعثت کا ذکر کر کے ایمان لانے کی ترغیب دی۔اور حضور کے صدق پر قرآن مجید سے واضح دلائل و براہین دیئے لیکن افسوس شیخ صاحب نے بجائے علمی رنگ میں جواب دینے کے یہ کہہ کر پیچھا چھڑایا کہ آپ جمی ہیں اور ہم صواحب لغة القرآن ہیں۔قرآن ہماری زبان میں اترا ہے اس لئے ہم اس کے معنے بہتر سمجھتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنی ملاقات میں جماعت احمدیہ کی عالمگیر تبلیغی مساعی اور ان کے شاندار نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ: " آج اسلام اگر ترقی کر سکتا ہے تو اس کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ دنیا کو اسلام کے جھنڈ۔تلے لانے کی کوشش کرے۔اس کے بعد ان سے پوچھا کہ آپ نے غیر مسلموں میں تبلیغ کا کیا پروگرام بنایا ہے؟ میں وہ جواباً کہنے لگے کہ سید جمال الدین افغانی مرحوم سے کسی نے سوال کیا کہ تم چین و جاپان کے لوگوں کو جن کی تعداد دنیا کے اکثر حصوں سے زیادہ ہے، کیوں جا کر تبلیغ نہیں کرتے اور کیوں انہیں مسلمان نہیں بنا لیتے ؟ تو سید جمال الدین صاحب نے جواب دیا کہ میں ان میں جا کر انہیں کیا کہوں؟ کس چیز کی طمع دلاؤں جو ان کے پاس نہیں ہے؟ اور اسلام قبول کرنے سے انہیں کیا مل جائے گا ؟ اگر انہیں یہ کہوں کہ اسلام قبول کرو تم تعداد میں ترقی کرو گے یا سیاست میں ترقی کرو گے، یا تم ایک آزاد مستقل امت ہونے کا انعام پاؤ گے، یا تمہارا