مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 315
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 297 اور بیش قیمت ہونے کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔لہذا عمومی فائدہ کے لئے یہ تمام نصائح یہاں پر درج کی جاتی ہیں۔حضور نے تحریر فرمایا: عزیزم مبارک احمد سلمک اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته پر اللہ تعالیٰ خیریت سے لے جائے اور خیریت سے لائے اور اپنی رضا مندی کی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔تمہارا سفر تو عربی اور زراعت کی تعلیم اور ترقی کے لئے ہے۔لیکن چھوٹے سفر میں اس بڑے سفر کو نہیں بھولنا چاہئے جو ہر انسان کو درپیش ہے۔جرنیل جرنیلوں کے ، مدبّر مدبروں کے، بادشاہ بادشاہوں کے حالات پڑھتے رہتے ہیں تا کہ اپنے پیشروؤں کے حالات سے فائدہ اٹھا ئیں۔اگر تم لوگ اہل بیت نبوی کے حالات کا مطالعہ رکھو تو بہت سی ٹھوکروں سے محفوظ ہو جاؤ۔انسان کا بدلہ اس کی قربانیوں کے مطابق ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: یہ نہ ہوگا کہ لوگ تو قیامت کے دن اپنے عمل لے کر آئیں اور تم وہ غنیمت کا مال جو تم نے دنیا کا حاصل کیا ہے۔اے میرے صحابہ تم کو بھی اپنے اعمال ہی لا کر خدا کے سامنے پیش کرنے ہوں گے۔اہل بیت نبوی کو جو عزت آج حاصل ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولا د ہونے کے سبب سے نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر جو قربانیاں کی ہیں ان کی وجہ سے ہے۔1۔تم اب بالغ جوان مرد ہو۔میرا یہ کہنا کہ نماز میں با قاعدگی چاہئے ایک فضول سی بات ہوگی۔جو خدا تعالیٰ کی نہیں مانتا وہ بندہ کی کب سنتا ہے۔پس اگر تم میں پہلے سے باقاعدگی ہے تو میری نصیحت صرف ایک زائد ثواب کا رنگ رکھے گی اور اگر نہیں تو وہ ایک صدا بصحرا ہے۔مگر پھر بھی میں کہنے سے رک نہیں سکتا کہ نماز دین کا ستون ہے۔جو ایک وقت بھی نماز کو قضا کرتا ہے وہ دین کو کھو دیتا ہے۔اور نماز پڑھنے کے یہ معنے ہیں کہ باجماعت ادا کی جائے۔اچھی طرح وضو کر کے ادا کی جائے۔ٹھہر کر، سوچ کر اور معنوں پرغور کرتے ہوئے ادا کی جائے۔اور اس طرح ادا کی جائے کہ توجہ تھی طور پر نماز میں ہو اور یوں معلوم ہو کہ بندہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم خدا اسے دیکھ رہا ہے۔جہاں دو مسلمان بھی ہوں ان کا فرض ہے کہ باجماعت نماز ادا کریں بلکہ جمعہ بھی ادا کریں۔اور نماز سے قبل اور بعد ذکر کرنا نماز کا حصہ ہے جو اس کا تارک ہو وہ نماز کو اچھی طرح پکڑ نہیں سکتا اور اس کا دل نماز میں نہیں لگ سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :