مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 4
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 66 میں لکھا ہے۔الحکم جلد 9 نمبر 32 مؤرخہ 10 ستمبر 1905ء صفحہ 3، کالم نمبر 3) 1905ء میں حضور فرماتے ہیں کہ چھپیں چھپیں سال پہلے کا یہ رویا ہے اسکا مطلب ہے کہ غالبا یہ 1880ء کی بات ہے۔اس رؤیا سے عرب و عجم میں آپ کے نام کی یکساں مقبولیت کی طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے۔اور شاید حضور علیہ السلام کا مندرجہ ذیل ارشاد بھی اس رؤیا کی تعبیر - حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ہے۔اس وقت ہمارے دو بڑے ضروری کام ہیں۔ایک یہ کہ عرب میں اشاعت ہو، دوسرے یورپ پر اتمام حجت کریں۔عرب پر اس لئے کہ اندرونی طور پر وہ حق رکھتے ہیں۔ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہوگا کہ ان کو معلوم بھی نہ ہو گا کہ خدا نے کوئی سلسلہ قائم کیا ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ان کو پہنچائیں ، اگر نہ پہنچا ئیں تو معصیت ہو گی۔ایسا ہی یورپ والے حق رکھتے ہیں کہ انکی غلطیاں ظاہر کی جاویں کہ وہ ایک بندہ کو خدا بنا کر خدا سے دور جا پڑے ہیں۔عربوں کی خبر گیری اور راہنمائی کا ارشاد ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 253) 1893 ء میں حضور نے اپنی عربی کتاب حمامۃ البشری تالیف فرمائی ! میں خدائی بشارت اور حکم لکھتے ہوئے فرماتے ہیں: وَإِنَّ رَبِّي قَد بَشَّرَنِي فِي الْعَرَبِ وَالْهَمَنِى أَنْ أُمَوِّنَهُمْ وَارِيَهُمْ 4 طَرِيْقَهُمْ وَأَصْلِحَ لَهُمْ شُيُوْنَهُم - 66 حمامة البشری روحانی خزائن جلد 7 ص 182 ترجمہ: اور میرے رب نے عربوں کی نسبت مجھے بشارت دی اور الہام کیا ہے کہ میں انکی خبر گیری کروں اور ٹھیک راہ بتاؤں اور انکے معاملات کو درست کروں۔7 ستمبر 1905 ء کو آپ کو کشف میں ایک کاغذ دکھائی دیا اس پر لکھا تھا: مَصَالِحُ الْعَرَبِ مَسِيرُ الْعَرَبِ“ اس کی وضاحت میں حضور نے فرمایا: اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ عربوں میں چلنا ) شاید مقدر ہو کہ ہم عرب