مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 309
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 291 کہ اس نے ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کھڑا کیا جس نے دین اسلام کی تجدید کا کام کیا۔اسی وعدہ کے موافق چودھویں صدی کے سر پر مجدد اعظم، امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے۔چنانچہ جنہوں نے آپ کو مان لیا ان کے نزدیک دین کی تجدید کا کام پوری آب و تاب سے شروع ہو گیا اور اس کے عالمی اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔لیکن جو اس سے محروم رہے انہیں ہر طرف ضلالت وگمراہی اور شر ہی نظر آیا۔جس کا اظہار ہر علاقہ میں مسلمانوں نے کیا۔مختلف عرب علماء نے بھی اس طرح کی بے چینی کا اظہار کیا گیا۔حتی کہ اخبار الفتح “ نے اپنے شمارہ نمبر 263 میں لکھا: جس مشکل دور سے امت اسلامیہ آج گزر رہی ہے وہ اسلام کی تاریخ میں ابتداء سے 66 لے کر آج تک بدترین دور ہے۔" ایسے پر آشوب دور میں مجدد کی ضرورت و تلاش کے موضوع پر اس وقت کے مشہور عالم الشيخ مصطفى الرفاعى اللبان صاحب نے ایک مضمون لکھا جسے قاہرہ سے نشر ہونے والے ایک مجلہ الاسلام نے شائع کیا جس کے بعض اہم حصوں کا ترجمہ تاریخی ریکار ڈ اور قارئین کرام کی دلچپسی کیلئے پیش ہے تا کہ وہ جان سکیں کہ عرب علاقے میں بھی کسی مصلح اور مجدد کی ضرورت کو کس شدت کے ساتھ محسوس کیا جار ہا تھا۔الشیخ اللبان صاحب کہتے ہیں: 2266 ہمیں آنا فانا ایسی پرشور اور غضبناک آوازیں سنائی دیتی ہیں جیسے تلواروں کے آپس میں ٹکرانے کی یا گھوڑوں کی اپنی لگا میں چبانے کی یا جنوں کے شور مچانے کی آواز میں ہوں یا جیسے جہازوں کی گھن گرج کی آواز ہوتی ہے۔ان آوازوں نے التجديد التحدید “ کی رٹ لگائی ہوئی ہے اور یہ کہ ہمیں قدیم اور پرانے کو چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ وہ اس زمانہ کے قابل نہیں رہا۔لیکن اگر ہم ان آوازوں سے پوچھیں کہ اس مزعومہ " تجدید سے آپ کی کیا مراد ہے تو بلا تر دود کہتی ہیں کہ اس کا مطلب یورپ کی اندھی تقلید اور اس کے طور طریقوں کو اپنانا ہے۔اور تعجب انگیز بات یہ ہے کہ یہ آوازیں ایسی قوم کے مونہوں سے نکل رہی ہیں جو دین اسلام کو ماننے والی ہے جو کہ دینِ تجدید ہے، جس پر عمل کر کے دنیا ترقی کر سکتی ہے اور بلند ترین انسانی اقدار حاصل کر سکتی ہے۔۔۔اہل کتاب نے جب دعوت اسلام سے یہ کہتے ہوئے اعراض کیا کہ ان کے پاس تو رات اور انجیل موجود ہے جو ان کی غلطی پر انہیں تنبیہ کرنے کے