مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 307 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 307

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول و 289 ادھر جب میں اپنی ترقی کا پروانہ لے کر اور کپتان رائٹ اپنی تنزلی کے آرڈر لے کر دونوں باہر نکلے تو دفتر کے ملازمین ہماری طرف دوڑے اور پوچھنے لگے کہ کیا فیصلہ ہوا ہے۔میرے بتانے پر کہ میں ہیڈ کلرک سے چیف کلرک بن گیا ہوں اور مجھے سورو پیہ الاؤنس بھی زیادہ ملے گا وہ بڑے حیران ہوئے اور خیال کرنے لگے کہ میرا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔کیونکہ وہ تو میرے منہ سے چھ ماہ کی قید کی خبر سننے کے منتظر تھے۔دوسری طرف کپتان رائٹ اور تو کچھ نہ کر سکا اس نے اپنا غصہ نکالنے اور مجھے نقصان پہنچانے کی نیت سے یہ کیا کہ جہاں میں جا رہا تھا وہاں کے بریگیڈ میجر کولکھ دیا کہ مسٹر احمدی عیسائیت کا دشمن ہے اور میری تنزلی کا باعث ہوا ہے اسے ہرگز چیف کلرک کی آسامی پر نہ رکھا جائے۔بریگیڈ میٹر موصوف نے وہ خط پڑھتے ہی یہ کہہ کر پھاڑ دیا کہ میں مسٹر احمدی کو جانتا ہوں اور پھر مجھے چیف کلر کی کے عہدے کا چارج دے دیا۔میں نے جب انہیں اپنے مقدمہ کا حال سنایا اور بتایا کہ کس طرح عین وقت پر ان کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے مجھے نہ صرف ذلت سے بچا لیا بلکہ سروس میں بھی ترقی بخشی تو وہ بہت خوش ہوئے۔میں نے انہیں مزید کہا چونکہ آپ اس اعتبار سے خدا تعالیٰ کے اس نشان کا حصہ ہیں اس لئے میں تہجد کی نماز میں چالیس روز تک آپ کی ترقی کے لئے دعا کروں گا۔۔۔۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میرے اس چالیس روزہ دعا کے اختتام پر ابھی پانچ دن اوپر ہوئے تھے کہ آرمی گزٹ میں یہ اعلان ہوا کہ بریگیڈیئر کنڈ کو D۔S۔O یعنی Distinguished) (Order Service کا اعزاز دیا گیا ہے۔جب میں انہیں اس اعزاز پر مبارک باد دینے گیا تو وہ کہنے لگے: "مسٹر احمدی یہ تمہاری چالیس روزہ دعا کا نتیجہ ہے۔دوسرا خدا تعالیٰ کا فضل بلکہ اس کا معجزانہ تصرف یہ ہوا کہ اس واقعہ پر چند روز ہی گزرے تھے کہ ایک اور گزٹ خود آپ کے متعلق شائع ہوا جو یہ تھا کہ: ”مسٹر احمدی کو کمانڈر انچیف کی طرف سے آئی ایم ایس ایم کا تمغہ عطا کیا گیا ہے۔“ آپ کو بعد میں پتہ چلا کہ برگیڈیئر کڈ نے اپنی طرف سے اور یقیناً خدائی تصرف کے ماتحت آپ کے بارہ میں حسن کارکردگی کی رپورٹ کرتے ہوئے اس تمغہ کے لئے سفارش کی تھی۔الحاج احمدی صاحب کہتے ہیں کہ : " تحدیث نعمت کے طور پر مخالفین کو خدا تعالیٰ کی قدرت اور غیرت کا تماشا دکھانے کے لئے میں تمغہ ملنے کے بعد چند روز کی رخصت لے کر اپنے پہلے دفتر میں گیا اور اپنے احمدی دوست السید علی حسن کے ساتھ تھوڑی دیر کے لئے ان مخالف کلرکوں کی