مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 300 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 300

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ،، 282 جائے گا۔ساری رات میرے ایک دوست کے مکان میں مجھے پناہ لینے پر مجبور کیا گیا تھا، گھیرے میں رکھا گیا۔دوسرے روز میں مصلحۂ لباس بدل کر واپس سٹیشن پر پہنچا اور ٹکٹ لے کر واپس اپنی ڈیوٹی پر ڈ برا بر ہان پہنچ گیا۔میں اپنے گھر بتا کر گیا تھا کہ چند روز موجب ارشاد حضرت صاحب تبلیغ کے لئے بیرونی مقام پر جاتا ہوں جو مخالفت کا گڑھ ہے وہاں قتل بھی کر دیا کرتے ہیں۔اگر میں وہاں خدانخواستہ قتل بھی ہو گیا تو تم کو اللہ تعالیٰ ہاجرہ جیسی عزت قرب الہی میں بخشے گا۔گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔( ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ بھی اس وقت ان کے ساتھ اسی علاقے میں مقیم تھیں۔) 9 سال بعد حضرت امیر المؤمنین خلیفہ لمسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے کارڈ لکھا کہ صرف ایک ماہ کیلئے پاکستان چھٹی پر تم کو آنے کی اجازت ہے۔سوفروری 1953ء میں خاکسار پہلی بار ربوہ آیا۔حضور نے فرمایا واپس ایسے سینیا جاؤ۔شاہ حبشہ کو ہمارا لٹریچر پہنچے گا ، تم اسے پہنچانے کا بندو بست کرنا۔جولائی میں وہاں کے پادریوں نے شکایات کیں کہ احمدیت کا نفوذ بڑھ رہا ہے، اس ڈاکٹر کو ملک سے باہر نکال دیا جائے۔سو مجھے حضرت امیر المؤمنین نے تار دی کہ نیروبی چلے جاؤ۔خاکسار 1953ء میں نیروبی پہنچا اور 1960ء میں وہاں سے ولایت مزید تعلیم کے لئے چلا گیا جس کے حصول کے بعد کامیاب ہو کر جلسہ سالانہ قادیان و ربوہ 1962ء میں پہنچا۔(ماخوذ از الفضل 9 اکتوبر 1935ء، 12 جنوری 1946ء ، 6 مئی 1953 ء جہاز واپس آ گیا بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 261 تا 267 ) ڈاکٹر سردار نذیر احمد صاحب کی زبانی انکے عدن کے علاقے میں تبلیغ کے لئے جانے کا بھی ذکر ہوا ہے۔اس حوالے سے انکا ایک نہایت ہی مؤثر اور ایمان افروز واقعہ یہاں درج کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔آپ کی زبانی یہ واقعہ آپ کے بیٹے مکرم ڈاکٹر سردار حمید احمد صاحب آف انگلستان نے روایت کیا ہے۔ڈاکٹر سردار نذیر احمد صاحب فرماتے ہیں: میں حاجیوں کے ایک جہاز پر بطور ڈاکٹر ملازم تھا۔واپسی سفر پر جب جہاز عدن پہنچا تو میں جہاز سے اتر کر تبلیغ کے شوق میں ادھر اُدھر نکل گیا۔اور پھر تبلیغ میں ایسا محو ہوا کہ جہاز کی