مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 292
274 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول نہیں کر سکتے۔اس معاہدہ میں ایسی احتیاطیں کی جاسکتی تھیں کہ جن کے بعد عرب کے لئے کسی قسم کا خطرہ باقی نہ رہتا۔مگر بوجہ اس کے کہ سلطان ابن سعود یورپین اصطلاحات اور بین الاقوامی معاملات سے پوری واقفیت نہیں رکھتے ، انہوں نے الفاظ میں احتیاط سے کام نہیں لیا اور اس میں انہوں نے عام مسلمانوں کا طریق اختیار کیا ہے۔مسلمان ہمیشہ دوسروں پر اعتبار کرنے کا عادی ہے حالانکہ معاہدات میں کبھی اعتبار سے کام نہیں لینا چاہئے۔بلکہ سوچ سمجھ کر اور کامل غور و فکر کے بعد الفاظ تجویز کرنے چاہئیں۔گو میں سمجھتا ہوں یہ معاہدہ بعض انگریزی فرموں سے ہے حکومت سے نہیں۔اور ممکن ہے جس فرم نے یہ معاہدہ کیا ہے اس کے دل میں بھی دھوکہ بازی یا غداری کا کوئی خیال نہ ہو مگر الفاظ ایسے ہیں کہ اگر اس فرم کی کسی وقت نیست بدل جائے تو سلطان ابن سعود کو مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔مگر یہ سمجھنے کے باوجود ہم نے اس پر شور مچانا مناسب نہیں سمجھا۔کیونکہ ہم نے خیال کیا کہ اب سلطان کو بدنام کرنے سے کیا فائدہ۔اس سے سلطان ابن سعود کی طاقت کمزور ہوگی۔اور جب ان کی طاقت کمزور ہو گی تو عرب کی طاقت بھی کمزور ہو جائے گی۔اب ہمارا کام یہ ہے کہ دعاؤں کے ذریعہ سے سلطان کی مدد کریں اور اسلامی رائے کو ایسا منظم کریں کہ کوئی طاقت سلطان کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی جرات نہ کر سکے۔“ 66 ( خطبات محمود جلد 16 صفحہ 549 تا 551 ، خطبہ جمعہ فرمودہ 30 /اگست 1935 ء) مقبولین الہی کی دل سے نکلی ہوئی دعائیں اور آہیں عرش کو ہلا دیتی ہیں اور خطرات کے منڈلاتے ہوئے سیاہ بادل چھٹ جاتے ہیں اور مطلع صاف ہو جاتا ہے۔یہی صورت یہاں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے سرزمین عرب کو نہ صرف اس معاہدہ کے بداثرات سے بچا لیا بلکہ ملک عرب کی کانوں سے اس کثرت کے ساتھ معد نیات برآمد ہوئیں کہ ملک مالا مال ہو گیا۔یہ عبد العزیز کے باپ کا گھر نہیں (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 228 تا 234) سلطان عبد العزیز ابن سعود کے ذکر کے ذیل میں یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ایک بار اخبار الفضل کے ایک سیاسی نامہ نگار نے جلالتہ الملک ابن سعود سے مکہ معظمہ میں ملاقات