مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 288 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 288

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 270 سعودی حکومت اور جماعت احمدیہ کا موقف سلطان عبد العزیز ابن سعود پر قاتلانہ حملہ ہم سعودی حکومت اور سلطان ابن سعود کے خاندان کے ساتھ مبلغین کرام اور جماعت احمدیہ کے بعض دیگر افراد کے تعلقات اور تبلیغ احمدیت اور نصائح وغیرہ پر بنی واقعات مفصل طور پر لکھ آئے ہیں۔تاریخی اعتبار سے بعض کا تذکرہ یہاں ہوگا۔لیکن ان واقعات پر اجمالی نظر ڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس وقت سعودی حکومت کی سب سے زیادہ خیر خواہ جماعت احمدیہ تھی اور مختلف حساس امور کے بارہ میں جماعت احمدیہ کے امام کا بیان فرمودہ موقف سب سے باوقار اور جرات مندانہ اور حق پر مبنی موقف تھا۔مولوی حضرات کے اکثر فرقے حاکم خاندان کی حکومت کے مخالف تھے اور اس کے خلاف پروپیگنڈے کر رہے تھے ایسے میں اگر حق کی آواز بلند ہوئی تو صرف قادیان سے ہوئی تھی۔اور اس وقت کے سلطان عبد العزیز ابن سعود کو بھی ان نیک جذبات اور مخلصانہ نصائح کی قدر تھی لہذا انہوں نے بھی کئی مرتبہ مولویوں کی مخالفت کو بالائے طاق رکھ کر احمدیت کے حق میں فیصلے کئے۔لیکن افسوس کے ان کے جانشین اس روایت کو نبھانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔اس مذکورہ حقیقت کی ایک جھلک یہاں بھی ملاحظہ ہو۔15 مارچ 1935 ء کو جلالة الملک سلطان عبد العزیز ابن سعود اور ان کے ولی عہد پر طواف کعبہ کے دوران بعض یمنی عربوں نے قاتلانہ حملہ کر دیا جس پر شاہ کے حفاظتی دستہ نے حملہ آوروں کو گولیوں سے ہلاک کر دیا۔اس پر بعض مسلمان اخباروں نے حرم پاک میں عربوں کے قتل پر سخت احتجاج کیا اسے سر زمین حجاز میں یزیدیت سے تعبیر کیا۔