مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 274 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 274

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 258 البشری، کبابیر، فلسطین البشریٰ کا اجراء حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا ایک عظیم کارنامہ ہے، جس کی طرف مولانا ابو العطاء صاحب کی مساعی کے تذکرہ میں اشارہ ہو چکا ہے۔ذیل میں اس کے بارہ میں مفصل معلومات درج کی جاتی ہیں۔کبابیر، فلسطین سے شائع ہونے والے اس عربی مجلہ کے بانی ، دیار عربیہ میں خدمات بجا لانے والے دوسرے مبلغ ، خالد احمدیت ، حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری مرحوم تھے۔اس رسالہ کو آپ نے شوال 1350 ھجری بمطابق مارچ 1932ء میں جاری فرمایا۔شروع میں اس کا نام ”البشارة الإسلامية الأحمدية“ تھا مگر جنوری 1935ء میں البشری“ کے نام سے شائع ہونے لگا۔عام طور پر یہ رسالہ عربی زبان میں ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی انگریزی زبان میں بھی مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔یہ رسالہ زیادہ تر ان ممالک میں جاتا رہا ہے جہاں عربی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔تاہم اب عمومی طور پر مقامی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور بعض ہمسایہ ممالک میں بھی ارسال کیا جاتا ہے۔دیار عربیہ میں جماعت کا یہ ترجمان مجلہ خدا کے فضل سے قریب 80 سال سے خدمت اسلام کی توفیق پا رہا ہے۔چنانچہ کبھی تو یہ یہود کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر چلائے گئے زہر ناک تیروں کے سامنے سینہ سپر رہا۔کبھی بڑے بڑے پادریوں کے ساتھ ہونے والے تحریری مناظرات کے لئے میدان کارزار بنارہا۔کبھی بہائیوں کی خلاف اسلام سازشوں کو بے نقاب کرتا رہا۔اور کبھی حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے دفاع میں غیر احمدی علماء کے ساتھ نبرد آزما رہا۔اسلام کی وہ اصل اور حسین شکل جو مسیح محمدی نے اس دور میں دوبارہ پیش