مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 268
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 252 ہو جائے تو ہمیں عقیدہ کی جزوی باتوں میں پڑنے کی ضرورت نہ ہوگی۔تاریخی تحقیقات کا مسئلہ الگ ہے۔میری اس تشریح کو انہوں نے پھر جواب سے گریز قرار دے کر طلبہ کو اپنی نمایاں فتح کی طرف توجہ دلائی اور مجھے کہنے لگے کہ آج تو ہم آپ کو ادھر ادھر جانے نہ دیں گے۔۔۔میں نے دیکھا کہ سادہ فطرت نوجوان طلبہ کے چہروں سے بھی کچھ حیرت کا اظہار ہونے لگا ہے تب میں نے پہلو بدلتے ہوئے شیخ صاحب سے کہا کہ گویا آپ حضرت مسیح کی قبر کی نشاندہی کے بغیر کسی اور بات پر راضی نہ ہوں گے؟ انہوں نے سر ہلاتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔میں نے کہا کہ لیجئے پھر میں آپ کو حضرت مسیح کی قبر کا پتہ بھی بتائے دیتا ہوں۔اس پر استاد بھی چونکا اور طلبہ بھی ہمہ تن متوجہ ہو گئے۔میں نے پوری ثقاہت سے آہستہ سے یہ فقرہ کہا: إِنَّ قَبْرَ عيسي في جنب قبر نوح عليهما السلام که حضرت عیسی کی قبر حضرت نوع کی قبر کے پہلو میں ہے۔میرا یہ کہنا تھا کہ استاد پر سکتہ طاری ہو گیا۔اور طلبہ بھی حیرت زدہ ہو گئے۔تھوڑے سے وقفہ کے بعد الشیخ العبوشی فرمانے لگے: فأين قبر نوح؟ لا ندری قبرہ کہ نوح کی قبر کہاں ہے ہمیں تو اس کا پتہ نہیں۔میں نے بطور لطیفہ کہا: جناب ، حضرت نوح کی قبر حضرت عیسی کی قبر کے بائیں جانب ہے اور حضرت عیسی کی اس کے دائیں طرف۔آپ حضرت نوح کی قبر بتادیں میں حضرت عیسی کی قبر دکھا دوں گا۔میں نے استاد کی حیرانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے طلبہ کو مخاطب کر کر کے کہا کہ کیا تم نے الخلیل میں حضرت نوح کی قبر دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں میں نے کہا: کیا پھر وہ آسمانوں پر زندہ ہیں؟ کہنے لگے کہ حضرت نوح زندہ تو نہیں ہیں۔میں نے کہا کہ پھر قبر کے معلوم نہ ہونے کو آسمانوں پر زندہ ہونے کی دلیل کیونکر ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ کہنے لگے کہ آپ ہمیں بتائیں کہ تاریخی طور پر آپ کیا مانتے ہیں؟ اب فضا صاف تھی اور ذہن اطمینان سے غور کرنے کے لئے تیار تھے۔میں نے اس بارے میں انہیں پوری تفصیل بتائی جسے وہ ہمہ تن گوش ہو کر سنتے رہے۔(الفرقان نومبر 1985 صفحہ 4، 8،5) کشمیر دُور ہے یا آسمان؟ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ نابلس شہر کے چند سکول ماسٹر ملنے کیلئے میرے پاس کہا بیر میں تشریف لائے۔اس وقت چند احمدی احباب بھی موجود تھے جن میں الشیخ علی القرق بھی