مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 267
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 251 ہے؟ میں نے کہا کہ ہمارا اعتقاد از روئے قرآن مجید یہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی باقی انبیاء کی طرح وفات پاگئے ہیں مگر ہمیں ان کی قبر سے کیا سروکار ؟ وہ قبر کہیں بھی ہو ہم نے کوئی اس قبر کی پرستش کرنی ہے۔قابل غور صرف یہ بات ہے کہ آیا قرآن مجید حضرت عیسی کی وفات کا اعلان کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر قبر کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔میرے اس جواب پر شیخ مذکور نے اپنے شاگردوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا میں نے تم کو نہ کہا تھا کہ آج اس قادیانی سے وہ سوال کروں گا جس کا اس کو جواب نہ آئے۔پھر ان سے پوچھنے لگا کہ کیا تم لوگوں نے الخلیل (حضرت ابراہیم کے نام پر فلسطین کا ایک شہر ہے جہاں پر حضرت ابراہیم کے نام پر فلسطین کا ایک شہر ہے جہاں پر حضرت ابراہیم اور بعض انبیاء کی قبریں ہیں ، یہودی اس شہر کو حبرون کہتے ہیں) دیکھا ہے؟ اور کیا اس جگہ نبیوں کی قبریں بھی دیکھی ہیں؟ طلباء نے کہا جی ہاں دیکھا ہے وہاں پر انبیاء کی قبریں بھی دیکھی ہیں۔اس پر الشیخ العبوشی نے دریافت کیا کہ کیا ان قبروں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر بھی ہے ؟ طلبہ نے نفی میں جواب دیا۔استاد نے فرمایا کہ بس معلوم ہو گیا کہ چونکہ حضرت عیسی کی قبر وہاں موجود نہیں اس لئے وہ آسمانوں پر زندہ ہیں۔پھر استاد صاحب فاتحانہ انداز میں مجھ سے کہنے لگے کہ آج تو آپ کو حضرت عیسی کی قبر کی نشاندہی کرنی پڑے گی ورنہ انہیں زندہ ماننا پڑے گا۔میں آپ کو لاجواب کر کے جاؤں گا۔میں نے مزید نرم لہجہ میں شیخ صاحب سے عرض کیا کہ حضرت اس سوال کو چھوڑیے یہ عقیدہ وفات مسیح سے براہ راست متعلق نہیں ، ہمیں ان کی قبر سے کیا واسطہ۔ہم کوئی ان کو خدا یا خدا کا بیٹا مانتے ہیں کہ ان کی قبر تلاش کر کے اس کی پرستش شروع کر دیں؟ میری اس مناظرانہ حکمت عملی کو نہ سمجھتے ہوئے شیخ مذکور اور زیادہ اصرار کرنے لگے۔گویا ان کا سوال وہ پتھر ہے جو اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا۔اس دوران گاہے گاہے آپ اپنے طلباء سے داد خواہ بھی ہوتے تھے۔میں نے کہا: دیکھئے جناب قبر کا اتا پتا بتانے سے یہ معاملہ ختم نہ ہو گا۔آپ پھر دوسرے لامتناہی سوالات کا سلسلہ شروع کر دیں گے۔مثلاً یہ کہ وہ کس بیماری سے فوت ہوئے تھے؟ کس وقت فوت ہوئے تھے؟ کس تاریخ کو اور کس موسم میں فوت ہوئے تھے؟ ان کا علاج کون کرتا تھا ؟ ان کو کیا کیا دوا دی گئی تھی ؟ وغیرہ۔بات کو مختصر کرتے ہوئے صرف یہ دیکھ لیں کہ قرآن مجید ان کو وفات یافتہ قرار دیتا ہے یا نہیں؟ اگر قرآن مجید سے ان کی وفات ثابت }