مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 266
250 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول حق تھا کہ دروازہ توڑ دیتے مگر رات کے اندھیرے میں بغیر کسی اطلاع کے اچانک دروازہ توڑ کر کسی کے گھر داخل ہونا بدترین جرم ہے۔سپاہیوں نے اپنے افسر کی غلطی کو محسوس کیا اور بتایا کہ پولیس افسر نے شراب پی ہوئی ہے نشے کی حالت میں اس نے ایسا کیا ہے۔ہم آپ سے معذرت چاہتے ہیں۔مولانا معاملہ کو طول دینا نہ چاہتے تھے اس لئے بات کو وہاں ہی ختم کر دیا۔حسن تدبیر حضرت مولانا ابو العطاء بیان فرماتے ہیں کہ : جماعت احمدیہ کے عقائد کے بارہ میں ایک دفعہ ایک ٹریکٹ شائع کیا گیا۔مجھے خدشہ تھا که مخالف مسلمان حکومت کے ذریعہ اس کی ضبطی کی کوشش کریں گے۔اس کا حل آپ نے یہ نکالا کہ اس کے شائع ہوتے ہی جلد از جلد اسے ڈاک کے ذریعہ بھجوا کر اس کی اشاعت ہر طرف کر دی۔آپ کا خدشہ درست ثابت ہوا۔حکومت کی مشینری حرکت میں لائی گئی اور ایک سرکاری افسر آیا۔اس کے استفسار پر اسے بتایا گیا کہ سارے ٹریکٹ تقسیم کئے جاچکے ہیں۔جو چند باقی تھے وہ اس افسر نے اپنے قبضہ میں کرلئے ، اور بس۔آپ کی دانشمندی اور پر حکمت کاروائی سے صرف شدہ روپیہ اور محنت ضائع ہونے سے بچ گئی۔قمر مسیح قمر نوح کے پاس ہے؟! حضرت مولانا صاحب اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: جب میں فلسطین میں تھا ( 1931 ء۔1936 ء ) ایک دن ایک عالم الشیخ عبد اللطیف العوشی اپنے چند شاگردوں کو لے کر میرے پاس دار التبلیغ (حيفا) میں تشریف لائے اور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے جونہی دروازہ کھولا تو اپنے تلامذہ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ میں ان کو لایا ہوں تا ان کے سامنے آپ کو لاجواب کر دوں۔میں نے کہا جناب پہلے اندر تشریف لائیے ، قہوہ نوش فرمائیے پھر ہم آپ کے سوالات پر بھی غور کریں گے۔چنانچہ وہ اندر آگئے۔میں نے فورا سٹوو پر قہوہ تیار کر کے ان سب کے سامنے رکھا اور اپنی کرسی پر بیٹھ کر ان سے کہا کہ اب آپ فرما ئیں کیا سوال ہے۔شیخ عبد اللطیف صاحب نے فرمایا کہ آپ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔آپ بتائیں کہ حضرت عیسی کی قبر کہاں