مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 265
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 249 پادری سے بات کریں گے کہ وہ آپ سے مناظرہ کرے۔کیونکہ وہ علم لاہوت کا عالم ہے۔مگر کی کوئی دوسرا پادری مولانا سے مناظرہ کے لئے تیار نہ ہوا۔مولانا موصوف نے ایک مقالہ بعنوان عشرون دليلا على بطلان لاهوت المسيح پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا اور اسے خوب تقسیم کیا گیا۔اس مضمون کو پڑھنے کے بعد ایک عیسائی خاتون دمشق سے حیفا آئیں اور مولانا سے ان دلائل کے متعلق مزید بحث کرنا چاہی۔مولانا نے انکو اپنے پیش کردہ دلائل کی حقانیت سمجھائی۔نیز کہا کہ یسوع مسیح پر ایمان لانا کسی طرح بھی نجات کا موجب نہیں ہو سکتا۔جب اس نے مولانا کے ٹھوس دلائل کو سنا اور انکا کوئی جواب نہ دے سکی تو کہنے لگی کہ میں تو علم لاہوت سے زیادہ واقف نہیں ہوں۔میں کسی بڑے پادری سے بات کروں گی کہ وہ آپ سے بات کریں۔اس طرح وہ چلی گئیں اور بعد میں اسکی طرف سے کسی طرح کی کوئی اطلاع مناظرہ کے لئے نہ ملی۔مولانا ابو العطاء صاحب کی جرات اور حکمت عملی مکرم عبد المالک محمد عودہ صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ ایک پولیس افسر جس کا نام محمد یا فیصل تھا اور حیفا کے حسینی خاندان سے اس کا تعلق تھا ، رات کو تقریبا گیارہ بجے احمد یہ مسجد کہا بیر چند سپاہیوں کے ساتھ آیا۔اور مولانا موصوف کے کمرے کا دروازہ دھکا دے کر کھول دیا اور اندر داخل ہو گیا۔اس پر مولانا نے اسے فوراً کمرہ سے باہر جانے کے لئے کہا۔اس نے انکار کیا۔مولانا نے اسے زبر دستی کمرہ سے باہر دھکیل دیا اور دروازہ بند کر دیا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ کمرہ سے باہر تشریف لائے اور پوچھا کیا بات ہے؟ پولیس افسر نے کہا کہ آپ میرے ساتھ تھا نہ چلیں۔مولانا نے فرمایا: میں پولیس چوکی جانے کے لئے تیار ہوں۔لیکن یہ بات یا درکھیں کہ اگر میں تھا نہ گیا اور وہاں افسران بالا کے سامنے حقیقت بیان کی تو آپ کو نوکری اور وردی سے دست بردار ہونا پڑے گا۔مولانا نے مزید فرمایا کہ پولیس کا کام امن کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، اگر پولیس ہی عوام الناس کے امن کو خراب کرنے کا باعث بن جائے تو چور اور سپاہی میں کیا فرق رہا۔اور خاص طور پر ایک پولیس افسر رات کے اندھیرے میں کسی کا دروازہ تو ڑ کر گھر میں داخل ہو جائے تو اسے منصب پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔مولانا نے اسے سمجھایا کہ اگر آپ کو مجھ سے کوئی کام تھا تو آپ کو پہلے دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے تھا۔اگر میں نہ کھولتا تو آپ کا