مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 262 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 262

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول بعض تاثرات اور دلچسپ واقعات مولانا محمدحمید کوثر صاحب اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: 246 جب مولانا ابو العطاء صاحب حیفا پہنچے تو مولانا جلال الدین شمس صاحب کے ساتھ حیفا کے علاقہ (برج) شارع سنتو پر واقع ایک کرایہ کے مکان میں رہا کرتے تھے۔مکرم عبد المالک کی محمد عوده ساکن کبابیر بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں انکی ملاقات کے لئے گیا۔مولانا شمس صاحب نے کھانا تیار کیا اور ہم سب نے تناول کیا۔تھوڑی دیر کے بعد جب مولانا ابو العطاء صاحب ہاتھ دھونے کے لئے غسل خانے میں گئے تو ہم میں سے کسی نے مولانا شمس صاحب سے کہا کہ نئے مبلغ تو کمزور سے معلوم ہوتے ہیں۔اس پر مولانا شمس صاحب نے فرمایا کہ ابھی آپ ان کی خداداد صلاحیتوں سے واقف نہیں ہیں۔وہ بہت بڑے عالم دین اور کامیاب مناظر ہیں اور آپ کو مستقبل قریب میں معلوم ہو جائے گا کہ وہ کتنے بڑے عالم دین ہیں۔سامعین اس جواب پر خاموش ہو گئے اور مستقبل نے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا کہ جو کچھ حضرت مولانا شمس صاحب نے فرمایا تھاوہ بالکل درست تھا۔مکرم عبد المالک محمد عودہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مولانا ابوالعطاء صاحب جب شروع میں فلسطین تشریف لائے تو اپنا زیادہ وقت مطالعہ میں گزارتے تھے۔صرف دروس اور بحث مباحثہ کے وقت ہی احباب کے ساتھ بیٹھتے تھے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ حسب ضرورت چند کتابیں لے کر باہر کھیتوں یا پہاڑیوں کی طرف چلے جاتے تھے جہاں اکثر وقت دعاؤں اور مطالعہ میں گزارتے۔عربی اخبارات کا روزانہ با قاعدگی سے مطالعہ فرماتے تھے۔روز روز نہیں بلکہ کبھی کبھی مکرم حامد صالح عودہ ساکن کہا بیر بیان کرتے ہیں کہ مولانا ابوالعطاء صاحب جب کبابیر میں سکونت پذیر ہوئے تو ہم مولانا کے کمرہ میں جمع ہو جاتے اورمولا نا ہمیں دودھ والی انڈین چائے بنا کر پلایا کرتے تھے۔ہم مولانا کو کہتے کہ یہ چائے بہت مزیدار ہے۔ہم روزانہ یہاں آپ کے پاس چائے پینے کے لئے آیا کریں گے۔اس پر مولانا بڑی بے تکلفی کے انداز میں فرمایا کرتے تھے کہ ہر روز نہیں بلکہ کبھی کبھی۔